
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے ثالث مصر اور قطر سے بات چیت کے بعد ہفتے کے روز غزہ سے 3 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے غزہ میں اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت 3 اسرائیلی قیدیوں کے ناموں کا اعلان کیا ہے جنہیں کل رہا کیا جائے گا۔
حماس کی عسکری شاخ عزالدین القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ 15 فروری کو قیدیوں کے تبادلے کے چھٹے مرحلے میں جن 3 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا ان میں الیگزینڈر ساشا ٹروفانوف، ساگوئی ڈیکل چن اور یائر ہارن شامل ہیں۔
واضح رہے کہ چن امریکا اور اسرائیل کی دوہری شہریت رکھتے ہیں جبکہ ٹروفانوف روس اور اسرائیل کی دوہری شہریت رکھتے ہیں۔
ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کا عمل 15 فروری کو ہونا تھا لیکن اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے اسے معطل کر دیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر غزہ میں موجود تمام قیدیوں کو ہفتے کی دوپہر تک رہا نہیں کیا گیا تو جنگ بندی منسوخ کر دی جانی چاہیے۔
حماس نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ بندی معاہدے میں اسرائیل کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ثالثی کرنے والے ممالک کے عزم کے بعد معاہدے کے تحت قیدیوں کے تبادلے پر عمل درآمد جاری رکھے گی۔
قیدیوں کے تبادلے کے پہلے 5 دور میں اسرائیلی جیلوں میں قید 766 فلسطینی قیدیوں کے علاوہ غزہ میں 16 اسرائیلی اور 5 تھائی لینڈ کے قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔