
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ غزہ کو خریدنے اور اس کی ملکیت کے بیان پر قائم ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ پر امریکا کی جانب سے قبضہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
اپنے سوشل میڈیا بیان میں مکروہ عزائم کا اعادہ کرتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ کی پٹی اسرائیل کے ذریعے امریکا کے حوالے کردی جائے گی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اُس وقت تک فلسطینی نئے اور جدید گھروں کے ساتھ کہیں زیادہ محفوظ اور خوبصورت کمیونٹیز میں دوبارہ آباد ہو چکے ہوں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق طیارے میں دوران پرواز صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطی کے ممالک کو زمین کے کچھ حصے دینے پر غور کیا جا سکتا ہے تاکہ وہاں دوبارہ تعمیر کے عمل میں مدد لی جا سکے۔
لبنان، غزہ اور شام کے متاثرین کیلئے 23 ویں امدادی کھیپ روانہ
گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ فلسطینیوں کا خیال رکھیں گے ان کا قتل نہیں ہونے دیں گے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک فلسطینیوں اپنے ملک میں بسانے پر تیار ہو جائیں گے جب وہ ان ممالک سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کو مستقبل کے لیے ایک اچھا مقام بنائیں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روسی صدر پیوٹن سے مناسب وقت پر ملاقات کروں گا۔ میرا ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے۔ ہم یوکرین جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کا روسی صدر سے ٹیلیفونک رابطے کا انکشاف
ادھر صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا اسٹیل اور المونیم پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان آج کروں گا۔ صدر ٹرمپ نے خلیج میکسیکو کو باضابطہ خلیج امریکا بنانے کے اعلامیہ پر دستخط کر دیے۔
دوسری جانب حماس اور ترکیہ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کو خرید کر ملکیت بنانے کے بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
حماس نے کہا کہ فلسطینیوں کو اپنی زمین سے بیدخل کرنے کی سازش ناکام بنا دیں گے۔ وہیں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے صدر ٹرمپ کے غزہ پر قبضے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس منصوبہ پر بات چیت ناقابل قبول ہے۔
ترکش صدر نے ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ تباہ حال غزہ کے بارے میں امریکی صدر نے جو کچھ کہا ہے اس پر بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ غزہ کے لوگوں کو آبائی زمین سے بیدخل کرسکے۔