
کراچی میں بے قابو ڈمپرز کے باعث ہونے والے حادثات کے بعد صوبائی حکومت اور گورنر سندھ نے سخت کارروائی کا عندیہ دے دیا۔ صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سندھ مکیش کمار چاولہ کی ہدایت پر غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ ڈمپرز کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر کا ایکشن
سیکریٹری ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول مکیش کمار چاؤلہ کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر میں تمام غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ ڈمپرز کو فوری ضبط کیا جائے گا۔ مکیش کمار چاؤلہ نے کہا کہ کراچی کی سڑکوں پر دندناتے یہ ڈمپر انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک پولیس کے اشتراک سے غیر قانونی ڈمپرز کے خلاف فوری لائحہ عمل تیار کیا جائے گا تاکہ ان حادثات کو روکا جا سکے۔ اجلاس میں ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن شبانہ پرویز، ڈائریکٹر نارکوٹکس کنٹرول وحید شیخ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔
گورنر سندھ کا سخت مؤقف
گورنر سندھ نے کراچی میں ڈمپرز کی ٹکر سے شہریوں کی ہلاکت پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور حکومت سے ایک ہفتے میں ڈمپر مافیا کے خلاف لائحہ عمل طلب کر لیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سندھ حکومت نے کارروائی نہ کی تو وہ خود اس کا لائحہ عمل دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہی دن میں کراچی میں چار افراد کو ڈمپرز نے روند دیا، لیکن انتظامیہ کی خاموشی افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈمپر ڈرائیور حادثے کے بعد فرار ہو جاتے ہیں، جو ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس کمپنی کا ڈمپر حادثے کا باعث بنے، اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کا ردعمل
ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی شارق جمال نے کہا کہ کراچی میں روزانہ کئی شہری حادثات میں جاں بحق ہو رہے ہیں، لیکن حکومت کے چہرے پر کوئی شکن تک نہیں آتی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ملیر میں حادثے کا شکار ہونے والا ڈمپر سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کا تھا، اور ان کے ڈرائیور نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہیں، انہیں پھانسی کی سزا دی جانی چاہیے۔
ادھر جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے کہا کہ پچھلے دنوں 85 سے زائد حادثات ہو چکے ہیں، سندھ حکومت کی پابندی کے باوجود دن کے اوقات میں ڈمپرز سڑکوں پر کیسے چل رہے ہیں؟ انتظامیہ کہاں تھی؟ انہوں نے کہا کہ ہم ان واقعات کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ہائی کورٹ کا حکم اور مستثنیٰ گاڑیاں
ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق دن کے وقت بھاری گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی عائد ہے، تاہم کچھ سرکاری اور تعمیراتی منصوبوں سے منسلک گاڑیوں کو استثنیٰ حاصل ہے، جن میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے 1800 رجسٹرڈ ڈمپرز، ایف ڈبلیو او کے اسٹیڈیم کی تعمیر پر معمور 40 ڈمپرز،ملیر ایکسپریس وے کنسٹرکشن کمپنی کے 60 ڈمپرز، 6 ہزار واٹر ٹینکرز شامل ہیں۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق پولیس ان گاڑیوں کو نہیں روک سکتی، تاہم ان کی دیکھ بھال اور حالت کی جانچ ٹریفک پولیس اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے ایم وی ای ونگ کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔
چیکنگ کے مسائل اور مشترکہ آپریشن
مشتبہ ناقص گاڑیوں کی جانچ کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ کے پاس گنجائش اور عملے کی کمی جیسے مسائل درپیش ہیں، تاہم اس کے باوجود ایکسائز اور ٹریفک پولیس نے بھاری گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
آئندہ چند روز میں شروع ہونے والے اس مشترکہ آپریشن میں بھاری گاڑیوں کی سڑک پر چلنے کی صلاحیت، ڈرائیوروں کے لائسنس، اور تکنیکی حالت کو چیک کیا جائے گا۔ جو گاڑیاں ناقابلِ استعمال یا ڈرائیور نااہل پائے گئے، انہیں فوری طور پر ضبط کر لیا جائے گا۔
پس منظر
کراچی میں آئے دن ڈمپرز کے حادثات میں شہری جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ گزشتہ روز بھی حادثے میں چھ افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جس پر مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں نے شدید ردعمل دیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ان قاتل ڈمپرز کو فوری طور پر شہر سے ہٹایا جائے تاکہ مزید جانوں کا ضیاع نہ ہو۔