بین الاقوامی شہرت یافتہ فیشن ڈیزائنر، اسٹائلسٹ اور فیشن آئیکون آمنہ انعام ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے تھیلسیمیا کے مریضوں کے ساتھ ایک فیشن شو کرنے کا اعلان کیا ہے۔
لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آمنہ انعام نے کہا کہ فیشن ویک یکم جون سے سات جون کو مصر میں ہوگا جس کے بعد لاہور میں تھیلسیمیا کے مریضوں کے ساتھ ایک فیشن شو بھی کروں گی۔
آمنہ انعام نے کہا کہ پاکستان بے پناہ صلاحیتوں، تخلیقی سوچ اور ثقافتی حسن سے مالا مال ملک ہے اور پاکستانی نوجوان اگر محنت، مستقل مزاجی اور خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھیں تو وہ عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں این جی اوز کے ساتھ بھی کام کروں گی میں نے سندس فاؤنڈیشن کا وزٹ کیا ہےتھیلسیمیا کے مریضوں کے ساتھ ایک فیشن شو کرنے کا ارادہ ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران آمنہ انعام نے اپنے بین الاقوامی فیشن سفر، عالمی کامیابیوں اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی گفتگو کی اس موقع پر شوبز، فیشن، میڈیا اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات بھی موجود تھیں.پریس کانفرنس میں لاہور پریس کلب کی نائب صدر مدیحہ الماس ، جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ، محسن جعفر ، عاطف انصاری ، عاکب انصاری موجود تھے۔
آمنہ انعام نے کہا کہ انہیں دنیا کے بڑے فیشن پلیٹ فارمز جیسے لندن فیشن ویک، پیرس فیشن ویک، میلان فیشن ویک، دبئی فیشن ویک اور نیو یارک فیشن ویک میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہوا، جہاں ان کے ملبوسات اور تخلیقی ڈیزائنز کو بین الاقوامی سطح پر بے حد سراہا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ نیویارک فیشن ویک میں انہیں ’’بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا جا چکا ہے جبکہ حال ہی میں ان کے ڈیزائنز کو پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے خصوصی پذیرائی حاصل ہوئی۔
آمنہ انعام کا کہنا تھا کہ ان کے ملبوسات کو پاکستان سمیت بھارت اور دیگر ممالک کی معروف شخصیات نے بھی زیب تن کیا معروف اداکار عمران عباس، بھارتی گلوکار گرو رندھاوا اور مس یونیورس ہرناز سندھو کی جانب سے ان کے ڈیزائنز کی ماڈلنگ نے عالمی فیشن انڈسٹری میں پاکستانی فیشن کو نئی پہچان دی۔
انہوں نے کہا کہ ان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اپنے ڈیزائنز میں پاکستانی ثقافت، روایتی رنگوں اور مشرقی و مغربی فیشن کے حسین امتزاج کو اجاگر کریں تاکہ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت اور خوبصورت تشخص سامنے آسکے۔
پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے آمنہ انعام نے کہا کہ وہ اپنے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران مختلف ثقافتی تقریبات، خواتین کی فلاح و بہبود کے پروگرامز اور فلاحی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فیشن صرف خوبصورتی کا نام نہیں بلکہ یہ ثقافت، شناخت اور معاشرتی شعور کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔
آمنہ انعام نے نوجوان فیشن ڈیزائنرز کو مشورہ دیا کہ وہ جدید عالمی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھیں مگر اپنی ثقافتی شناخت اور مشرقی روایات کو ہرگز فراموش نہ کریں کیونکہ یہی چیز پاکستانی فیشن کو دنیا بھر میں منفرد بناتی ہے۔دنیا میں جہاں جہاں فیشن ویک میں منعقد ہوتے ہیں ہم ان کے پراڈکٹ کو سیل کرنے میں آسانی پیدا کرسکتے ہیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر آمنہ انعام نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل میں بھی عالمی سطح پر پاکستانی فیشن، ثقافت اور نوجوان ٹیلنٹ کو متعارف کروانے کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گی جبکہ فلاحی اور سماجی سرگرمیوں میں بھی بھرپور انداز میں حصہ لیتی رہیں گی۔