سب کے دلوں پر راج کرنے والے ’جنید جمشید‘ کو بچھڑے 9 برس بیت گئے

جنید جمشید نے یونیورسٹی دور میں میوزک سے لگاؤ ہونے کے بعد دوستوں کے ساتھ مل کر ایک بینڈ تشکیل دیا، جس نے 1983 میں پشاور اور پھر اسلام آباد یونیورسٹی میں اپنی فن کا مظاہرہ کیا۔
جنید جمشید کی میت کی شناخت ہوگئی - BBC News اردو

بعد ازاں اس چھوٹے سے بینڈ ’وائٹل سائنس‘ نے دنیا بھر میں نام روشن کیا اور دل دل پاکستان جیسے مشہور قومی نغموں کو تخلیق کیا۔

جنید جمشید پاکستان کے مایہ ناز گلوکار تھے لیکن کیرئیر کے عروج کےدنوں میں انہوں نے اللہ اور دین کی خاطر گلوکاری کو چھوڑدیا، اور نعت خوانی اورتبلیغ میں اپنا وقت صرف کرنا شروع کردیا۔

تبلیغی جماعت سے وابستگی کے بعد جنید جمشید دین کی خاطر دیس دیس گئے اور اسی دوران انہوں نے حمد و ثناء و نعت خوانی کا آغاز بھی کیا۔

7 دسمبر 2016 کو جنید جمشید قومی ایئرلائن پی کے 661 کی پرواز کے ذریعے چترال سے واپس آرہے تھے کہ حویلیاں کے مقام پر طیارے کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں معروف مبلغ سمیت طیارے میں سوار تمام  47 مسافر شہید ہوگئے تھے۔

جہاز پھٹنے کی وجہ سے لاشوں کی شناخت کا عمل ڈین این اے کے ذریعے کیا گیا تھا۔

بدقسمت طیارے میں سوار جنید جمشید کا یہ سفر 2016 کا آخری سفر ثابت ہوا جس کے بعد اُن کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی تاہم اُن کا انداز آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles