صدر نے پارلیمنٹری صحافیوں کی تجاویز آنے تک پیکا ترمیمی بل روک لیا


قومی اسمبلی، قائمہ کمیٹی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد ڈیجیٹل نیشن بل اور پیکا ایکٹ ترمیمی بل توثیق کے لیے صدر مملکت کو ارسال کر دیے گئے ہیں۔ لیکن صدر مملکت نے صحافیوں کی تجاویز آںے تک بل پر دستخط نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ بل سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے صدر پاکستان کو ارسال کیے گئے، جن کی توثیق کے بعد دونوں بل باضابطہ قانون بن جائیں گے۔
پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>

خیال رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی پیکا ایکٹ ترمیمی بل کو منظور کیا تھا۔ اس ایکٹ کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے شدید مخالفت کی اور احتجاج کیا، جب کہ صحافیوں نے سینیٹ اجلاس کی کارروائی کے دوران واک آؤٹ کیا۔
پیکاقانون میں اگرمسائل ہوں گےتودوبارہ جائزہ لیا جاسکتا ہے، سینیٹرافنان اللہ
بعدازاں، ملک بھر میں صحافیوں نے بل کی مخالفت میں احتجاج کیا۔
پیکا ترمیمی بل کے خلاف پارلیمینٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن پاکستان (پی آر اے پی) نے پارلیمانی محاذ پر بھی احتجاج کیا۔ جس کے بعد صدرمملکت نے مولانا فضل الرحمٰن کی درخواست پر پی آر اے کی تجاویز آنے تک بل کچھ وقت کے لیے روک لیا۔
صدر نے پی آر اے پاکستان کی پیکا ترمیمی بل پر فوری دستخط نہ کرنے کی درخواست مان لی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles