
ٹل سے کرم کے لئے اشیائے خوردونوش کا 45 مال بردار گاڑیوں پر مشتمل دوسرا قافلہ آج روانہ ہو گا، جن میں اشیائے خوردونوش ادویات، سبزیاں اور فروٹس شامل ہیں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق راستہ کلئیر کرنے کے بعد قافلے کی روانگی ہوگی۔
دوسری جانب پاراچنار میں شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی جاری ہے، تمام بازار اور دکانیں بند ہیں۔
قبائلی رہنما کا کہنا ہے کہ لاکھوں کی آبادی کیلئے چالیس ٹرک سامان ناکافی ہے، ضرورت کے مطابق سامان فراہم کیا جائے۔
سیکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 27 دہشت گرد ہلاک
ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے رہنما کا کہنا ہے کہ ادویات ختم ہونے کے باعث میڈیکل اسٹور اور پرائیویٹ ہسپتال بند ہوگئے ہیں۔
{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>
سماجی رہنما اسد اللہ کہتے ہیں کہ راستوں کی طویل بندش سے سیکڑوں اوورسیز کے ویزے اور ٹکٹ راستوں کی بندش سے ضائع ہوگئے، ضلع بھر میں اسکولز سمیت تعلیمی ادارے گذشتہ 3 ماہ سے بند ہیں۔
اسد اللہ نے کہا کہ راستوں کی بندش کے باعث علاقہ سے باہر فوت ہونے والے پچاس سے زائد مسافروں کو ہنگو و دیگر علاقوں میں دفنایا گیا ہے۔
آرمی چیف کا ملک میں امن خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کا فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان
ڈپٹی کمشنر کرم اشفاق احمد کا کہنا ہے کہ راستے کھولنے سمیت عوام کو ریلیف دینے کیلئے مختلف اقدامات جاری ہیں۔