بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کو پاکستان آنے کی دعوت، معاملہ کیا ہے؟

پاکستان نے بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگوت مان کو لاہور میں ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کے لیے ویزا جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعے کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگوت مان پاکستان آنا چاہیں تو حکومت انہیں ویزا جاری کرنے کی درخواست پر غور کرے گی۔

تاہم ترجمان نے واضح کیا کہ بھگوت مان کو پاکستان آنے کے لیے ویزا دینے کا معاملہ الگ ہے، جبکہ انہیں بھارت سے پاکستان جانے کی اجازت دینا بھارتی حکومت کا اختیار ہے۔

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگوت مان نے 23 اکتوبر کو انکشاف کیا تھا کہ انہیں لاہور میں 27 نومبر کو ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے غیر یقینی کا اظہار کیا تھا کہ آیا بھارتی حکومت انہیں پاکستان جانے کی اجازت دے گی یا نہیں۔

بھگوت مان کا کہنا تھا کہ ہماری ثقافت ایک جیسی ہے اور یہاں سے بھی کئی شاعر کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان جائیں گے۔

انہوں نے یہ خواہش بھی ظاہر کی تھی کہ اگر کرتارپور راہداری دوبارہ کھول دی جائے تو وہ پنجاب اسمبلی کے تمام ارکان کو اپنے ساتھ پاکستان میں واقع گردوارہ دربار صاحب لے جانا چاہتے ہیں۔

کرتارپور راہداری بھارتی پنجاب کے علاقے ڈیرہ بابا نانک کو پاکستان کے ضلع نارووال میں واقع گردوارہ دربار صاحب سے ملاتی ہے۔ یہ مقام سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیو جی سے منسوب ہے۔

اس راہداری کے ذریعے بھارتی سکھ یاتری بغیر ویزا گردوارے میں حاضری دے کر اسی روز واپس بھارت جا سکتے ہیں، تاہم بھارت کی جانب سے یہ راہداری 7 مئی 2025 سے زائرین کی آمدورفت کے لیے بند ہے۔

یہ فیصلہ بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کے بعد پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 9 مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے آپریشن سندور شروع کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا کہ پابندیاں ختم ہونے کے بعد پاکستان مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے آنے والے یاتریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے خوش آمدید کہتا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان نے 2025 کے دوران بھارتی سکھ اور ہندو یاتریوں کو 9 ہزار سے زائد ویزے جاری کیے، جبکہ رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں سکھ یاتریوں کو مزید 4 ہزار سے زائد ویزے دیے گئے۔

سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان رواں ماہ بابا گرو نانک دیو جی کے 557ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں سکھ یاتریوں کی ننکانہ صاحب آمد کا منتظر ہے۔

انہوں نے کرتارپور راہداری کو سکھ یاتریوں کے لیے پاکستان کا ایک خصوصی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سہولت کے ذریعے روزانہ 5 ہزار سے زائد افراد گردوارے کی زیارت کرکے اسی دن واپس جا سکتے تھے۔

پاکستانی ترجمان نے 1974 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذہبی مقامات کی زیارت سے متعلق طے پانے والے معاہدے کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت دونوں ممالک کے شہریوں کو مذہبی مقامات کی زیارت میں سہولت فراہم کرنے کا طریقہ کار طے کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ پاکستان بدھ مت کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ٹیکسلا اور تخت بھائی سمیت اہم تاریخی مقامات کی حفاظت کے لیے خصوصی ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles