
امریکا میں مصنوعی ذہانت کی صنعت کو ضابطوں کا پابند بنانے کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی اور ڈیموکریٹس کے مؤقف میں اختلاف سامنے آ گیا ہے۔ ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول ملنے کے بعد اے آئی کمپنیوں کی جواب دہی اور ٹیکنالوجی کے ممکنہ نقصانات سے صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے قانون سازی کی تیاری شروع کر دی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ڈیموکریٹس جنوری 2027 میں کانگریس کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد مصنوعی ذہانت سے متعلق متعدد بل پیش کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
ان تجاویز میں اے آئی کمپنیوں کو ان کے نظام سے ہونے والے نقصانات کا ذمہ دار ٹھہرانے، جدید اے آئی ماڈلز کی آزادانہ جانچ اور ڈیٹا سینٹرز کے باعث بجلی کے اخراجات میں اضافے سے صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
اس کے برعکس ری پبلکن قیادت والی موجودہ کانگریس نے اے آئی کی ترقی کو ترجیح دی ہے اور اس شعبے پر سخت پابندیوں کے بجائے اس کی پیش رفت کی حمایت کی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اے آئی انڈسٹری پر لازمی ضابطے عائد کرنے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔
’رائٹرز‘ کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے اے آئی سے متعلق قانون سازی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
ڈیموکریٹ رکن کانگریس لوری ٹراہن نے بھی اس شعبے سے متعلق تجاویز پیش کی ہیں، جب کہ زوئی لوفگرین نے ذمہ دارانہ ضابطہ کاری اور جدت کے فروغ پر زور دیا ہے۔
ڈیموکریٹ رہنما عبدال السید نے اے آئی کی نگرانی کے لیے ایک آزاد ریگولیٹری ادارہ قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے، جس کا مقصد اس شعبے میں کمپنیوں کی سرگرمیوں اور ٹیکنالوجی کے ممکنہ اثرات کی نگرانی کرنا ہے۔
’رائٹرز‘ کے مطابق اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اس کے ممکنہ نقصانات، کمپنیوں کی قانونی ذمہ داری اور بجلی کی بڑھتی طلب جیسے معاملات امریکی سیاست میں بھی اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس کی مجوزہ قانون سازی انہی خدشات سے نمٹنے کی کوشش ہے۔
رپورٹ کے مطابق اے آئی کے شعبے میں اوپن اے آئی، اینتھروپک، میٹا، گوگل اور اسپیس ایکس سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سرگرمیاں بھی زیرِ بحث ہیں۔ تاہم ڈیموکریٹس کی تجاویز کو قانون کی شکل دینے میں صدر ٹرمپ کی مخالفت ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔