نیتن یاہو کے دھاندلی کے الزامات مسترد، اسرائیلی انتخابی کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

اسرائیل کے انتخابی کمیشن نے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور ان کی جماعت لیکوڈ کے عرب جماعتوں پر انتخابی دھاندلی اور غیر ملکی مداخلت کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔ کمیشن کے مطابق 9 ہزار 69 پولنگ اسٹیشنز کے جائزے میں انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور اعلان کردہ نتائج عوامی رائے کی درست عکاسی کرتے ہیں۔

برطانوی اخبار گارجین کے مطابق انتخابی کمیشن نے بدھ کو انتخابات کے حتمی نتائج صدر اسحاق ہرزوگ کے حوالے کردیے۔ کمیشن کے بیان میں کہا گیا کہ جائزے کے دوران ایسی کوئی بے ضابطگی سامنے نہیں آئی جس سے انتخابی نتائج تبدیل ہوئے ہوں یا انتخابات کی شفافیت متاثر ہوئی ہو۔

مرکزی انتخابی کمیٹی کے سربراہ نوم سولبرگ نے کہا کہ بعض مشتبہ معاملات کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم ان کی بنیاد پر مجموعی انتخابی نتائج پر سوال اٹھانے یا ان کے اعلان میں تاخیر کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ نے وزیراعظم پر الزام لگایا کہ وہ درست ووٹوں کو مشکوک قرار دے کر اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی شہریوں کی قیادت میں کام کرنے والی سیاسی جماعتوں کے خلاف سکیورٹی اداروں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسرائیل کی اٹارنی جنرل گالی بہاراو میارا نے بھی فلسطینی قیادت والی جماعتوں کے چار سینئر رہنماؤں سے پوچھ گچھ کے لیے شن بیت سکیورٹی سروس کی درخواست روک دی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں سے تفتیش کے لیے کسی غلط کام کے شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

اٹارنی جنرل نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ قانون کی حکمرانی والے ملک میں شہریوں یا منتخب نمائندوں سے ایسے شواہد کے بغیر پوچھ گچھ نہیں کی جاسکتی جو اس کارروائی کا جواز فراہم کریں۔

دوسری جانب اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے انتخابی نتائج موصول ہونے کے موقع پر فلسطینی شہریوں کے خلاف نسل پرستانہ بیانات اور حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کے عرب معاشرے کا احترام کرتے ہیں اور ملک کے مختلف شعبوں میں اس کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

صدر ہرزوگ نئی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گے اور کسی ایک سیاست دان کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔ توقع ہے کہ وہ گادی آئزن کوٹ کو یہ موقع دیں گے، جس کا اعلان جمعرات کی شام تک متوقع ہے۔

فلسطینی سیاسی جماعت رعم نے بھی آئزن کوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دینے کی سفارش کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ بڑی فلسطینی جماعت جوائنٹ لسٹ کی ترجیح نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔ اسرائیلی اپوزیشن کی تمام یہودی جماعتیں بھی آئزن کوٹ کی حمایت کرچکی ہیں۔

تاہم نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ آئزن کوٹ نے انتخابی نتائج پر عوامی اعتماد کمزور کرنے کی کوششوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزارت دفاع، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سرکاری ملازمین ریاست کے خادم ہیں، کسی بادشاہ کے نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سرکاری اختیارات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق شن بیت کے سربراہ ڈیوڈ زینی نے فلسطینی قیادت والی جماعتوں کے رہنماؤں سے پوچھ گچھ کا حکم دیا تھا اور اس معاملے کو قومی سلامتی سے جوڑنے کی کوشش کی تھی۔ ایسا ہونے کی صورت میں سیاست دانوں کو وکیل تک رسائی سے محروم رکھنے سمیت سخت شرائط عائد کی جاسکتی تھیں۔

اسرائیلی صحافی ناداو ایال نے بھی خبردار کیا ہے کہ انتخابی نتائج کو مسترد کرنے اور اپوزیشن جماعتوں کو بدنام کرنے کی مزید کوششیں کی جاسکتی ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی مجموعی آبادی کا تقریباً 20 فیصد حصہ فلسطینی شہریوں پر مشتمل ہے۔ انتخابات کے دوران ان کی بڑی تعداد نے حق رائے دہی استعمال کیا تھا، جبکہ نیتن یاہو نے انتخابی دن ہی بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کرنا شروع کردیے تھے، جنہیں اب انتخابی کمیشن نے مسترد کردیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles