
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون نے مشرقِ وسطیٰ میں اضافی عسکری اثاثے تعینات کرتے ہوئے ایران کے خلاف ممکنہ بڑے پیمانے کی جنگی کارروائیوں کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات میں حکمراں ریپبلکن پارٹی کو ایران جنگ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں شدید انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن کے نتائج پر گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ جنگ نے ریپبلکنز کو بھاری سیاسی نقصان پہنچایا ہے، تاہم ان کا موقف ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے یہ قدم ناگزیر تھا۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایگزیوس‘ کے مطابق، اعلیٰ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ایران پر تاحال دوبارہ حملے شروع کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور قطر کے توسط سے سفارتی تلاش کے راستے بھی کھلے ہوئے ہیں۔
انتخابی نتائج کے بعد واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے اندرونی خدشات اور اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک بیان میں کہا کہ انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کی بنیادی وجہ ایران تنازع اور اس کے معاشی اثرات تھے، اور انہوں نے اشارہ دیا کہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات بھی ووٹرز کی برہمی کا سبب بنے۔
ایگزیوس نے وائٹ ہاؤس کے اندرونی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نائب صدر وینس کی قیادت میں ایک گروپ صدر ٹرمپ کو ایران کے ساتھ فوری معاہدہ کرنے کا مشورہ دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بحری ناکہ اور معاشی پابندیوں کے ذریعے تہران پر دباؤ برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی کی حمایت کر رہے ہیں تاکہ ایرانی معیشت پر اثرات مزید گہرے ہوں۔
دوسری جانب تہران میں سرکاری سطح پر امریکی انتخابی نتائج کو ایران کی سیاسی فتح قرار دیا گیا ہے۔
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا کہ ایرانی قوم نے امریکی صدر کو میدانِ جنگ، آبنائے ہرمز اور واشنگٹن کی سیاست میں شکست دی ہے۔
سفارت کاروں اور مشرقِ وسطیٰ کے تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کی جانب سے اس قسم کے بیانات امریکی صدر کو عسکری کارروائیوں پر مزید مجبور کر سکتے ہیں۔
بین الاقوامی کرائسز گروپ کے نائب پروگرام ڈائریکٹر علی واعظ کے مطابق ایران کے لیے عاقلانہ قدم یہ ہوگا کہ وہ واشنگٹن کی سیاسی کمزوری کو عسکری کمزوری نہ سمجھے اور وقت رہتے سفارتی سمجھوتے کی راہ اختیار کرے۔
فی الوقت قطری ثالثوں کی جانب سے امریکی اور ایرانی حکام سے ایک مسودہ قانون پر اتفاقِ رائے حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ جنگ کے باضابطہ خاتمے اور براہِ راست مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے سامنے نئے فضائی حملوں کا آغاز، تہران سے سمجھوتہ، یا موجودہ معاشی اور بحری ناکہ بندی کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے جیسے متعدد راستے موجود ہیں، تاہم ان تمام اختیارات کے ساتھ شدید سیاسی اور عسکری خطرات وابستہ ہیں اور مستقبل کی حتمی سمت کا انحصار آنے والے دنوں کی پیش رفت پر ہوگا۔