امریکی کمپنی کا رات کو سورج کی روشنی بیچنے کا منصوبہ

دنیا میں بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے باعث توانائی کے نئے ذرائع تلاش کیے جا رہے ہیں، لیکن ایک امریکی کمپنی نے اس حوالے سے ایسا منصوبہ پیش کیا ہے جو سائنس فکشن کی کہانی معلوم ہوتا ہے۔ کمپنی کا ارادہ ہے کہ خلا میں بڑے بڑے آئینے نصب کرکے سورج غروب ہونے کے بعد بھی زمین کے مخصوص علاقوں تک روشنی پہنچائی جائے۔

سائنسی جریدے دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم خلائی ٹیکنالوجی کمپنی ریفلیکٹ آربیٹل اس منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

کمپنی خلا میں ایسے بڑے آئینے بھیجنا چاہتی ہے جو سورج کی روشنی کو منعکس کرکے رات کے وقت زمین پر مخصوص مقامات تک پہنچا سکیں۔ اس مقصد کے لیے کمپنی نے خلائی راکٹ بنانے والی فرم اسکائی روٹ ایرو اسپیس کے ساتھ دو راکٹ لانچ کرنے کا معاہدہ بھی کیا ہے۔

کمپنی کے مطابق اس ٹیکنالوجی سے شمسی توانائی کے منصوبوں کو زیادہ دیر تک بجلی پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں روشنی پہنچانے اور امدادی کارروائیوں کے دوران بھی اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ریفلیکٹ آربیٹل کے منصوبے کے تحت تقریباً 18 بائی 18 میٹر کے بڑے آئینے زمین کے نچلے مدار میں نصب کیے جائیں گے۔ ان آئینوں کو اس انداز میں حرکت دی جا سکے گی کہ یہ سورج کی روشنی کو منعکس کرکے زمین کے ان علاقوں تک پہنچائیں جہاں اس کی ضرورت ہو۔

ابتدائی تجربے میں استعمال ہونے والے آئینوں سے تقریباً پانچ کلومیٹر چوڑے علاقے کو روشنی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی ان آئینوں کی پوزیشن مسلسل تبدیل کرے گی تاکہ روشنی مطلوبہ مقام پر برقرار رکھی جا سکے۔

اس منصوبے کی پہلی آزمائش 2027 کی دوسری سہ ماہی میں متوقع ہے۔ اس تجربے کے لیے کمپنی ایئرینڈل ون نامی سیٹلائٹ استعمال کرے گی۔

کمپنی کا 2035 تک 50 ہزار سیٹلائٹس بھیجنے کا ہدف

کمپنی کا منصوبہ صرف چند آئینوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا ہدف 2035 تک خلا میں 50 ہزار سیٹلائٹس کا نیٹ ورک قائم کرنا ہے۔

ریفلیکٹ آربیٹل کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں ان آئینوں سے منعکس ہونے والی روشنی چاندنی کے برابر ہوگی۔ تاہم سیٹلائٹس کی تعداد بڑھنے کے ساتھ روشنی کی شدت اور اس کے دورانیے میں بھی اضافہ کیا جا سکے گا۔

کمپنی کے مطابق صارفین ایک موبائل ایپ کے ذریعے اپنی مطلوبہ جگہ کا انتخاب کر سکیں گے اور وہاں روشنی پہنچانے کی درخواست دے سکیں گے۔ اس طرح سورج کی روشنی کو ایک ایسی سروس بنانے کا منصوبہ ہے جسے ضرورت کے مطابق استعمال کیا جا سکے۔

اس غیر معمولی منصوبے نے جہاں سائنسی حلقوں میں دلچسپی پیدا کی ہے، وہیں ماہرین فلکیات اور ماحولیات کے کارکنوں نے اس کے ممکنہ نقصانات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

سب سے بڑا خدشہ زمین کے قدرتی ماحول اور رات کے آسمان پر اس کے اثرات سے متعلق ہے۔ اگست 2025 میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ خلا سے آنے والی منعکس شدہ روشنی زمین کی فضا سے گزرنے کے بعد کس طرح پھیل سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق جب روشنی زمین کی فضا میں داخل ہوتی ہے تو فضا میں موجود گیسوں کے مالیکیولز اور گردوغبار کے باریک ذرات اس کا کچھ حصہ مختلف سمتوں میں بکھیر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ زمین پر پہنچنے والی روشنی بھی واپس فضا کی طرف منعکس ہو کر مزید پھیل سکتی ہے۔

اس عمل کے نتیجے میں روشنی صرف اس مقام تک محدود نہیں رہے گی جہاں اسے پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا ہو، بلکہ آس پاس کے وسیع علاقے میں بھی پھیل سکتی ہے۔

تحقیق میں پیش کیے گئے سائنسی ماڈل کے مطابق اگر آئینے مطلوبہ مقام سے تقریباً 14 کلومیٹر دور بھی ہوں تو زمین پر پیدا ہونے والی روشنی پورے چاند کی روشنی سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ کسی علاقے کے رہائشیوں کو ایسی روشنی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی انہوں نے خود درخواست بھی نہ کی ہو۔ تاہم یہ نتائج کمپیوٹر ماڈل اور سائنسی حسابات پر مبنی ہیں، اس لیے حقیقی حالات میں اس ٹیکنالوجی کے اثرات جاننے کے لیے عملی تجربات کا انتظار ہے۔

ریفلیکٹ آربیٹل کو جولائی میں امریکی ریگولیٹری ادارے سے اس منصوبے کے لیے منظوری مل چکی ہے، تاہم اس کے باوجود ماہرین فلکیات اور ماحولیاتی تنظیموں نے اس کی مخالفت کی ہے۔

مخالفین نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کی منظوری منسوخ کی جائے۔ ان کا مؤقف ہے کہ خلا میں بڑی تعداد میں ایسے سیٹلائٹس کی موجودگی رات کے قدرتی اندھیرے اور فلکیاتی مشاہدات کو متاثر کر سکتی ہے۔

فی الحال یہ منصوبہ ابتدائی آزمائشی مرحلے میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کی کامیابی کا انحصار نہ صرف خلا میں آئینوں کی درست پوزیشن برقرار رکھنے پر ہوگا بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ ان سے منعکس ہونے والی روشنی زمین کے ماحول اور انسانی زندگی پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔

یوں رات کے وقت سورج کی روشنی فروخت کرنے کا یہ منصوبہ مستقبل میں توانائی اور ہنگامی امداد کے شعبوں میں نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے، لیکن اس کے ماحولیاتی اثرات ایک اہم سوال ہیں جن کا جواب عملی تجربات کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles