
ٹیکنالوجی کی دنیا کی مشہور کمپنی گوگل نے اعلان کیا ہے کہ جو اسکول اپنے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ٹولز کے استعمال پر پابندی لگائیں گے، انہیں گوگل سرچ انجن کی عام اور اے آئی سے پاک سہولت سے بھی محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس نئے فیصلے کے بعد کروڑوں طلبا کے لیے انٹرنیٹ پر سرچ کرنا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ اسکولوں کے پاس اب سب کچھ یا کچھ نہیں والا اصول رہے گا۔
امریکی جریدے فوربز کی رپورٹ کے مطابق گوگل نے منگل کو اعلان کیا کہ اگلے سال سے اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کے لیے اس کی مختلف سروسز میں شامل اے آئی فیچرز خودکار طور پر بند رہیں گے۔ اگر اسکول انتظامیہ چاہے گی کہ طلبہ ان سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں تو اسے خود اجازت دینا ہوگی۔
مسئلہ یہ ہے کہ گوگل نے اپنے عام سرچ انجن کو بھی اسی اے آئی سسٹم کے ساتھ جوڑ دیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اسکول اے آئی استعمال نہیں کرنا چاہتا تو وہ گوگل سرچ سے بھی محروم ہو جائے گا۔
گوگل نے اپنے تعلیمی پلیٹ فارم میں جیمنائی، جیمنائی نوٹ بک، جیمنائی اِن کلاس روم اور گوگل سرچ کو ایک ہی انتظامی کنٹرول کے تحت شامل کر دیا ہے۔ اس طرح اسکولوں کو ان سہولتوں کے استعمال کے حوالے سے الگ الگ فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔
گوگل کے شعبہ تعلیم کے نائب صدر کرس فلپس نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ کمپنی کی اے آئی خصوصیات سرچ انجن میں گہرائی سے شامل ہو چکی ہیں، اس لیے ایک سہولت کو دوسری سے الگ کرنا ممکن نہیں رہا۔
یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے شعبہ تعلیم کے پروفیسر مورگن پولیکوف نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی کی صنعت کی جانب سے لوگوں پر اے آئی کے استعمال کو مسلط کرنے کی واضح مثال ہے، حالانکہ بعض ادارے پہلے ہی اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے انکار کر چکے ہیں۔
اس سے قبل بھی گوگل کے اے آئی فیچرز کو اسکولوں میں بطور ڈیفالٹ فعال کرنے کے فیصلے پر والدین اور تعلیمی اداروں کے سربراہان نے تحفظات ظاہر کیے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ طلبہ کو اے آئی استعمال کرنے کی اجازت کب اور کس حد تک دی جائے، اس کا فیصلہ اسکول انتظامیہ کو کرنا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 15 کروڑ سے زیادہ طلبہ اور اساتذہ روزانہ گوگل کی تعلیمی سہولتیں استعمال کرتے ہیں۔ ان میں گوگل ورک اسپیس فار ایجوکیشن، جی میل، گوگل ڈاکس، شیٹس، ڈرائیو اور گوگل کلاس روم جیسی سروسز شامل ہیں۔
تعلیمی شعبے میں گوگل کی مضبوط موجودگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی اسکولوں میں استعمال ہونے والے تقریباً 60 فیصد کمپیوٹرز کروم بکس ہیں۔
امریکا کے دو بڑے سرکاری تعلیمی اضلاع، نیویارک سٹی پبلک اسکولز اور لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ نے بھی رواں سال اپنے تعلیمی آلات پر جنریٹو اے آئی کے استعمال کو محدود کرنے کے اقدامات کیے تھے۔ ان دونوں اضلاع میں مجموعی طور پر تقریباً 14 لاکھ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
خصوصاً لاس اینجلس کے تعلیمی حکام چاہتے تھے کہ طلبہ عام گوگل سرچ استعمال کر سکیں، تاہم سرچ کے دوران سامنے آنے والے اے آئی اوورویوز کو بند رکھا جائے۔ گوگل کی نئی پالیسی کے تحت اب یہ درمیانی راستہ اختیار کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
دوسری جانب گوگل نے دنیا بھر کے کلاس رومز میں گائیڈڈ لرننگ کے نام سے ایک نئی سہولت بھی متعارف کرائی ہے۔
اس نظام کے تحت جب طلبہ ہوم ورک یا تعلیمی موضوعات کے بارے میں سرچ کریں گے تو انہیں براہِ راست جواب دینے کے بجائے مرحلہ وار سوالات کے ذریعے خود جواب تک پہنچنے میں مدد دی جائے گی۔
مثال کے طور پر فزکس کے فارمولے سمجھنے یا کسی کتاب کی رپورٹ تیار کرنے کے لیے طلبہ کو ایسے سوالات دیے جائیں گے جو انہیں خود سوچنے اور مسئلے کو سمجھنے کی ترغیب دیں گے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے طلبہ میں تنقیدی سوچ اور خود سیکھنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم نئی پالیسی نے اسکولوں کے سامنے یہ سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ آیا عام سرچ کی سہولت برقرار رکھنے کے لیے انہیں اے آئی ٹولز بھی قبول کرنا ہوں گے۔