پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے حوالے سے آج اچھی خبر ملے گی: وزیر پیٹرولیم

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ہوئی ہے، جس کا فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے گا، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے حوالے سے آج اچھی خبر ملنے کی امید ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے وزیراعظم کی ہدایات پر عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں اور گزشتہ جمعے کو بھی ریفائنریوں کے تعاون سے پیٹرول کی قیمت میں متوقع اضافے کو روکا گیا تھا۔

منگل کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پوری دنیا اس وقت مشکل حالات سے گزر رہی ہے اور خطے کی صورت حال کے باعث توانائی کے شعبے کو بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی واضح ہدایات ہیں کہ موجودہ مشکل حالات میں کمزور طبقے کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے۔ حکومت نے اپنی معاشی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں۔

علی پرویز ملک کا مزید کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید نرمی آئی ہے اور حکومت اس کا فائدہ عوام تک پہنچائے گی۔ جمعے کو بھی ریفائنریوں کی مدد سے پیٹرول کی قیمتوں میں متوقع اضافے کو روکا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ایل پی جی کے نرخوں کے حوالے سے بعض عناصر نے ناجائز منافع خوری کی کوشش کی اور لوگوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا۔ چند شرارتی عناصر نے ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ کیا، جس سے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ پاکستان میں ایل پی جی کی سالانہ کھپت تقریباً 24 لاکھ ٹن ہے، جبکہ مقامی سطح پر روزانہ 2 ہزار سے 2 ہزار 500 ٹن گیس پیدا ہوتی ہے۔ ملک میں ایل پی جی کی نصف سے زیادہ ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ گیس کنکشن موجود ہیں، تاہم جہاں پائپ لائن کے ذریعے گیس دستیاب نہیں وہاں شہری گھریلو ضروریات کے لیے ایل پی جی استعمال کرتے ہیں۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ خطے میں موجود چیلنجز کے باعث ایل این جی اور ایل پی جی کی درآمد میں مشکلات پیش آرہی ہیں جب کہ حکومت توانائی کے تحفظ سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے کام کررہی ہے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے توانائی کے معاملات پر اجلاس کی صدارت کی ہے، جس میں ملک کی توانائی کی ضروریات اور مستقبل کی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت ایک جامع انرجی سکیورٹی آرکیٹیکچر تیار کررہی ہے تاکہ توانائی کی درآمد، ذخیرہ کرنے اور فراہمی کے نظام کو بہتر بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایل پی جی ذخیرہ کرنے کی سہولتوں پر مطلوبہ کام نہیں کیا گیا، جس کے باعث ملک کو موجودہ صورت حال میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت ایل پی جی کے شعبے میں مسابقت بڑھانے اور صارفین کو سستی سے سستی گیس فراہم کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق ماضی میں ایل پی جی کی بڑی مقدار مغربی سرحد کے ذریعے پاکستان پہنچتی تھی تاہم سرحدی سپلائی متاثر ہونے کے باعث درآمدی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات پیدا ہوئیں۔ اب زیادہ تر درآمدات سمندری راستے سے کی جاتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سمندر کے ذریعے ایل پی جی درآمد کرنے کے لیے اینگرو اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے دو ٹرمینلز موجود ہیں، جن کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 14 ہزار ٹن ہے۔ تاہم بڑے ریفریجریٹڈ اور کرائیوجینک جہازوں سے ایل پی جی وصول کرنے اور اسے ذخیرہ کرنے کے لیے مزید سہولتوں کی ضرورت ہے۔

علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ دنیا میں ایل پی جی کی ترسیل کا طریقہ تبدیل ہوچکا ہے اور اب بڑے ریفریجریٹڈ جہازوں کے ذریعے گیس کی نقل و حمل میں اضافہ ہوا ہے لیکن پاکستان کے پاس ایسے جہازوں سے گیس وصول کرنے اور ذخیرہ کرنے کا مطلوبہ انفرااسٹرکچر موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور درآمدی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کررہی ہے تاکہ مستقبل میں بیرونی حالات کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات سے بچا جاسکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت ایل پی جی کی خریداری اور درآمد کے نظام میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور سوئی سدرن کے ذریعے ایندھن کی بلک خریداری کی جائے گی جب کہ متعلقہ کمپنیوں کو مقامی ایل پی جی کی شفاف نیلامی کی ہدایت کی جائے گی۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم کے مطابق پی ایس او، سوئی سدرن اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کو ایل پی جی درآمد کرنے کے لیے کہا گیا ہے، ایل پی جی کی درآمد کا عمل مسابقت کی بنیاد پر کھولا جارہا ہے اور تمام کمپنیاں اپنی ویب سائٹس پر ایل پی جی کے نرخ بھی جاری کریں گی۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ ایل پی جی کے شعبے میں گزشتہ 50 سال سے چند لوگوں کا گٹھ جوڑ قائم ہے، جسے ختم کیا جائے گا۔ مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی فراہمی بھی نیلامی کے ذریعے کی جائے گی تاکہ تمام خریداروں کو یکساں مواقع مل سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایل پی جی کی نیلامی 5 ٹن اور 10 ٹن کی مقدار میں کی جائے گی جب کہ قیمتوں میں استحکام کے لیے پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles