
ایران کے ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے مشرق وسطیٰ میں واقع مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیٹا مراکز کو اپنے ممکنہ جوابی اہداف کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، اور امریکا یا اسرائیل کے ساتھ دوبارہ جنگ چھڑنے کی صورت میں یہ تنازع ایک طویل اور غیر متوقع جنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔
امریکی خبر رساں ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ علاقائی مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے توانائی کا بحران پیدا ہوگا اور آبنائے ہرمز کی بندش سے بھی خطرناک ایسے عالمی اثرات مرتب ہوں گے جو دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔
ایرانی اہلکار کا کہنا تھا کہ ایران اگلی جنگ کے آغاز اور اس کے تمام مراحل کے دوران روایتی حملوں سے ہٹ کر ’سرپرائز‘ دینے والی حکمتِ عملی کو ترجیح دے گا۔
یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی شدید تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے قبل اکتوبر کے وسط میں ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوتی ہے تو خطے میں موجود ڈیٹا سینٹرز، زیرِ سمندر کیبلز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات ایرانی نشانہ بن سکتی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے خلیجی ممالک میں موجود دو ٹریلین ڈالر مالیت کے ایسے اثاثوں کو خطرے کی زد میں قرار دیا تھا جن میں سے بیشتر کا تعلق امریکا سے ہے۔
رواں سال مارچ کے مہینے میں بھی متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کے دو مراکز پر ڈرون حملے ہوئے تھے جبکہ بحرین کے قریب ایک تنصیب کو بھی نقصان پہنچا تھا، جس سے دبئی اور ابوظہبی میں بینکنگ، آن لائن ٹیکسی اور فوڈ ڈیلیوری ایپس کا نظام شدید متاثر ہوا تھا۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھی سخت اقدامات کے اشارے مل رہے ہیں۔ سی این این نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حکم ملنے کے بعد خطے میں موجود امریکی افواج 96 گھنٹوں کے اندر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر ملٹری آپریشن شروع کر سکتی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی نومبر میں امریکی مڈ ٹرم انتخابات کے بعد اور سال کے اختتام سے قبل ہونے کا امکان ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق واشنگٹن نے متعدد خلیجی عرب ریاستوں کو بھی مڈ ٹرم انتخابات کے بعد ایک مختصر مگر شدید عسکری مہم کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔ ساتھ ہی اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے بھی ایران کی ان توانائی تنصیبات پر نئے حملوں کی ترغیب دی جا رہی ہے جنہیں پہلے نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، تاہم امریکی حکام نے انہیں مشترکہ آپریشنز کی مکمل تیاری تک انتظار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
فوکس نیوز اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوج کی دوبارہ تعیناتی اور گائیڈڈ میزائلوں سے لیس ڈسٹرائیر بحری جہازوں کے قیام میں توسیع کر دی ہے۔ اس وقت خطے میں 50 ہزار امریکی عسکری اہلکار اور 20 جنگی جہاز موجود ہیں جن کے ماہانہ آپریشنل اخراجات دو سے تین ارب ڈالر کے درمیان ہیں۔
ان عسکری تحرکات اور شدید خطرات کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، جہاں دوحہ میں قطری ثالثوں کے ذریعے ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ بھی جاری ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔