
اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ تنازع دوبارہ شروع ہوتا ہے تو اسرائیل اور امریکا لبنانی تنظیم حزب اللہ کے خلاف کیے گئے پیجر حملوں کی طرز پر ایک انتہائی اچانک اور حیرت انگیز کارروائی کے ذریعے ایرانی فوجی قیادت کا خاتمہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
امریکی اخبار ’نیویارک پوسٹ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں موساد کے شعبہ عالمی آپریشنز کے سابق نائب سربراہ عوڈید ایلام نے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب کے پاس ایسے خفیہ کارڈز اور حکمت عملی موجود ہے جو تہران کی حکومت کو مکمل طور پر گرا سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمان کے اسپیکر کے پاس فیصلہ سازی کا کوئی حقیقی اختیار نہیں ہے، بلکہ اصل اقتدار چار رکنی عسکری قیادت کے پاس ہے جن میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی، بسیج فورس کے کمانڈر حسین طائب، ایرانی چیف آف اسٹاف علی عبداللہی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی شامل ہیں۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق، ان رہنماؤں پر ماضی میں سنگین الزامات عائد کیے جا چکے ہیں اور مبصرین کا ماننا ہے کہ یہی افراد ایرانی سیاسی قیادت کی واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیل یا سمجھوتے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی فوجی حلقوں اور قانون سازوں کی جانب سے بھی اس ممکنہ تصادم کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن میں تیار کردہ جنگی منصوبے انتہائی تباہ کن ہیں اور ان کے نفاذ سے شہری بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل نے پیش گوئی کی ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد حالات انتہائی خطرناک موڑ لے سکتے ہیں اور کسی کو بھی ایران کے قریب نہیں ہونا چاہیے۔
ادھر ریٹائرڈ امریکی جنرل جیک کین کا کہنا ہے کہ آئندہ ممکنہ کارروائیوں میں محض عسکری قیادت ہی نہیں بلکہ ایران کے جوہری پروگرام، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ڈرون و میزائل تنصیبات کو بھی مکمل طور پر نشانہ بنایا جانا چاہیے۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق، دفاعی تجزیہ کاروں اور سابق عسکری حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کوئی بھی نیا فوجی حملہ کیا گیا تو تہران کی طرف سے انتہائی شدید جوابی کارروائی کی جائے گی۔
سابق اسرائیلی میجر جنرل یعقوب عامیدرور نے اس امر پر زور دیا ہے کہ اگر ایران نے جوابی کارروائی کے دوران خلیجی ممالک میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو اسرائیل کو ایران کا پورا توانائی کا انفراسٹرکچر تباہ کرنے کا قانونی جواز مل جائے گا، جس سے ملک کئی دہائیوں پیچھے چلا جائے گا۔
ادھر خطے میں کشیدگی کے اس ماحول میں امریکی اور اتحادی افواج اپنی جنگی تیاریاں مکمل کر چکی ہیں، جبکہ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ نامی طیارہ بردار جہاز بھی جارج واشنگٹن اور جارج ڈبلیو بش کے ٹاسک فورسز کے ساتھ شامل ہونے کے لیے تیزی سے مشرق وسطیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے۔