شام کا فضائی حملوں پر اردن سے احتجاج، بچوں سمیت عام شہریوں کی ہلاکت کا الزام

شام نے اپنی سرزمین پر اردن کی جانب سے فضائی حملوں پر سخت احتجاج کرتے ہوئے واقعے کو ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اردن نے ان حملوں کو گزشتہ دنوں چرچ حملے کا بدلہ قرار دیتے ہوئے داعش کے 20 سے زائد جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے جب کہ شامی وزارتِ خارجہ نے حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کا الزام عائد کیا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق جنوبی صوبے ’درعا‘ میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں ایک معمر شخص اور تین بچوں سمیت سات افراد ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔

شامی وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز جاری بیان میں اردنی افواج کی جانب سے پیشگی آگاہ کیے بغیر شامی فضائی حدود میں داخل ہو کر حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔

بیان میں حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شام کی سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ یقینی بنانے، مشترکہ سکیورٹی تعاون اور زمینی سطح پر رابطہ کاری کے لیے اردن کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔

شامی وزارتِ خارجہ کے مطابق پیر کی شب ہونے والے حملوں کے بعد اردن کے ساتھ ہنگامی طور پر ایک مشترکہ کمیٹی پر کام جاری ہے جو مشترکہ سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر غور کرے گی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles