
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مشترکہ اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے حالیہ دورۂ تہران کے دوران پیش کی تھی، جس کے بعد آج تہران میں اپنی نوعیت کا پہلا مشترکہ اجلاس منعقد ہوگا۔ اجلاس میں علاقائی سلامتی، باہمی تعاون اور ایران امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایا کہ اجلاس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن شرکت کریں گے۔
اس سے قبل ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے بھی اعلان کیا تھا کہ سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان، پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن تہران میں ایرانی حکام کے ساتھ مشترکہ اجلاس میں شریک ہوں گے۔
اسماعیل بقائی کے مطابق اجلاس میں خطے کی موجودہ صورت حال، علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی بھی گفتگو کا اہم موضوع ہوگی۔
دوسری جانب اسماعیل بقائی نے برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر سردمہری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک خود اس مسئلے کا حصہ بن چکے ہیں اور گزشتہ دو برسوں کے دوران انہوں نے کوئی تعمیری کردار ادا نہیں کیا۔
تہران میں ہونے والا یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب خطے میں سلامتی کی صورت حال اور ایران امریکا کشیدگی اہم معاملات بنے ہوئے ہیں۔
اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کی شرکت کو علاقائی امور پر مشاورت اور باہمی تعاون کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے