کویت میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے نیا نظام متعارف

کویت میں ملازمین کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کے لیے نگرانی سخت کردی گئی ہے، جہاں 8 ہزار 849 آجرین کی فائلوں میں تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق مسائل سامنے آئے ہیں۔ حکومت نے تنخواہوں کی ادائیگی پر نظر رکھنے کے لیے نیا الیکٹرانک نظام بھی متعارف کرایا ہے، جبکہ ملازمین کی تنخواہ سے ایک ماہ میں 25 فیصد سے زیادہ رقم کاٹنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

نئے الیکٹرانک نظام کے ذریعے یہ دیکھا جائے گا کہ کمپنی نے ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی کی درخواست کب دی، بینک نے ملازمین کا ریکارڈ کیسے چیک کیا اور رقم ان کے اکاؤنٹس میں پہنچی یا نہیں۔ اس پورے عمل کے آٹھ مراحل ہوں گے۔ پہلے کمپنی تنخواہ کی ادائیگی کی درخواست دے گی، پھر مرکزی بینک اور متعلقہ بینک ملازمین کی تفصیلات کی جانچ کریں گے۔ معلومات درست ہونے پر تنخواہ ادا کی جائے گی اور ادائیگی کی رپورٹ الیکٹرانک طریقے سے متعلقہ اتھارٹی کو بھیج دی جائے گی۔

حکام کے مطابق، اس نظام سے تنخواہوں کی ادائیگی کا ریکارڈ چیک کرنا آسان ہوگا اور بینکوں کے درمیان کاغذی کارروائی بھی کم ہوگی۔ اس طرح یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ کن ملازمین کو تنخواہ ادا کردی گئی ہے اور کہاں ادائیگی سے متعلق مسئلہ موجود ہے۔

پی اے ایم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کمپنیاں ملازمین کی تنخواہ سے اپنی مرضی سے رقم نہیں کاٹ سکتیں۔ اس کے لیے 13 جائز وجوہات مقرر کی گئی ہیں، جن میں بغیر تنخواہ چھٹی کرنا، بیماری کی چھٹی، بچوں کی دیکھ بھال کے لیے چھٹی، کام سے معطلی، بغیر اجازت کام کی جگہ چھوڑنا، کام سے انکار اور غیر حاضر رہنا شامل ہیں۔

تاہم، تنخواہ سے رقم کاٹنے کے لیے کمپنی کو ثبوت بھی دینا ہوگا کہ کٹوتی کیوں کی گئی اور اس کی وجہ قانونی ہے۔ قواعد کے مطابق، کسی ملازم کی ایک ماہ کی تنخواہ سے زیادہ سے زیادہ 25 فیصد رقم کاٹی جاسکتی ہے۔ اس سے زیادہ کٹوتی کی اجازت نہیں، جبکہ مقررہ حد کے اندر کٹوتی کے لیے بھی ضروری دستاویزات فراہم کرنا ہوں گی۔

کویت میں اس نظام کا مقصد ملازمین کو وقت پر تنخواہ دلانا اور کمپنیوں کو قانون پر عمل کرنے کا پابند بنانا ہے۔ الیکٹرانک نگرانی کے ذریعے حکام تنخواہوں کی ادائیگی کا ریکارڈ دیکھ سکیں گے اور جہاں مسائل سامنے آئیں، وہاں ان کی نشاندہی کرسکیں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles