مکہ دفاعی معاہدے کے اعلیٰ حکام کی ایرانی قیادت سے آج اہم ملاقات متوقع

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ حکام کی آج ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی حکام سے اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور خطے کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ملاقات میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکی کے انٹیلی جنس چیف شرکت کریں گے۔

خبر ایجنسی کے مطابق سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد ایران، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان اعلی سطح پر یہ پہلی ملاقات ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب پر حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور ایرانی قیادت کے درمیان یہ پہلا اعلیٰ سطح کا مشترکہ رابطہ ہوگا۔

اس ملاقات کو خطے میں سیکیورٹی صورت حال اور دفاعی تعاون کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے رواں برس اگست میں مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق تینوں ممالک نے رواں ماہ سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔

تہران میں ہونے والی متوقع ملاقات میں علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون کے امور پر بات چیت ایسے وقت میں ہوگی جب خطے میں سکیورٹی سے متعلق خدشات موجود ہیں اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے بعد دفاعی تعاون کا معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ تاہم، ملاقات کے ممکنہ نتائج یا کسی نئے معاہدے کے حوالے سے فی الحال تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles