ایران پر حملے کا جواب دشمن کی سوچ سے زیادہ شدید ہوگا: باقر قالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب دشمن کی توقعات سے بڑھ کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوگا اور اپنی سرزمین پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دے گا۔

باقر قالیباف نے اتوار کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکا اپنا طرزِ عمل تبدیل نہیں کرتا، دھونس اور لالچ کی پالیسی ترک نہیں کرتا اور اپنے وعدوں کی خلاف ورزیوں کا عملی طور پر ازالہ نہیں کرتا، اس وقت تک اس کے کسی دعوے پر ذرہ برابر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔

باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا آج کے ایران اور ماضی کی اس بادشاہت کے دور میں بنیادی فرق سمجھنے میں ناکام رہا ہے، جسے واشنگٹن کی حمایت حاصل تھی اور جس کے زمانے میں غیر ملکی طاقتیں ملکی معاملات پر نمایاں اثر و رسوخ رکھتی تھیں۔

انہوں نے رضا شاہ پہلوی دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ایران اب مغربی ممالک کے زیرِ اثر کوئی نوآبادی نہیں، بلکہ ایک آزاد اور طاقتور علاقائی قوت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ سامراجی اور صہیونی قوتوں کا ایران کی خودمختاری اور مستقبل پر دوبارہ غلبے کی خواہش اب ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا ’امریکا اپنے غلط اندازوں اور ایران کے خلاف جنگ شروع کرکے ایک دلدل میں پھنس چکا ہے۔ اس دلدل سے نکلنے کے لیے امریکا کو ضروری اقدامات خود کرنا ہوں گے۔‘

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے کہا کہ ایران پر پابندیاں اور حملے کی دھمکیاں امریکا کی پرانی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کا مقصد خطے پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اب ایسا ملک نہیں رہا جس کی قومی تقدیر کا فیصلہ غیر ملکی طاقتیں کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی علاقائی سالمیت، قومی خودمختاری اور مفادات کے دفاع کے لیے تیار ہے اور کسی غیر ملکی طاقت کی دھونس میں آکر اپنے قومی وقار اور خودمختاری کا سودا نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ یا قیادت کو قتل کرنے کی دھمکیاں ایرانی قوم کو اپنے حقوق اور مفادات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles