
پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے پاکستان کے لیے ایرانی سرحدیں بند کیے جانے سے متعلق افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے پاکستان کو ایل پی جی سمیت ایرانی مصنوعات کی برآمد پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری وضاحتی بیان میں ایرانی سفیر نے واضح کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کے ساتھ اپنی سرحدیں بند نہیں کیں اور دونوں ممالک کے درمیان سرحدیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدیں کھلی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں پڑوسی ممالک، خصوصاً برادر ملک پاکستان کے لیے سرحدیں بند کرنے کا نہ ہی کوئی جواز موجود ہے اور نہ ہی ایسا کرنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ایران سے درآمدات کے لیے ای فارم کے طریقۂ کار پر عمل درآمد میں تبدیلیوں کے باعث ایرانی تاجر پاکستان سامان بھیجنے سے قاصر ہیں۔
ایرانی سفیر کے مطابق ایل پی جی سے لدے کئی سو ٹرک رمدان بارڈر عبور کرکے پاکستان کی حدود میں واقع گبد بارڈر کراسنگ پر کھڑے ہیں لیکن کئی ہفتے گزرنے کے باوجود ان ٹرکوں سے سامان نہیں اتارا جا سکا اور نہ ہی انہیں کلیئرنس ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تاخیر سے سامان کی نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا معمول کے مطابق جاری رہنا مزید مشکل ہو رہا ہے۔ تاہم ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ اس انتظامی اور تکنیکی مسئلے کو حل کرنے کے لیے وہ پاکستانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر طے پانے والے دوطرفہ معاہدوں کا لازمی حصہ ہے۔ یہ تجارت دونوں ملکوں اور ان کے عوام کے مشترکہ مفاد میں ہے۔
ان کے مطابق ایران نے دوطرفہ تجارت کو آسان بنانے اور فروغ دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اور آئندہ بھی پاکستانی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہ کر موجودہ مسائل حل کرنے، سامان کی ترسیل میں سہولت پیدا کرنے اور دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مضبوط بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔