امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی (مِڈ ٹرم) انتخابات میں ڈیموکریٹس کے ایوانِ نمائندگان اور ممکنہ طور پر سینیٹ میں کامیابی کے زیادہ امکانات بتائے جا رہے ہیں۔ غیر جانب دار تجزیہ کاروں کے مطابق، کامیابی کی صورت میں ریپبلکنز کے دو سال تک مکمل کنٹرول کے بعد ڈیموکریٹس کو بھی واشنگٹن کی پالیسی سازی میں حصہ مل سکتا ہے، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بہت ساری پالیسیاں تبدیل ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
امریکی آئین کے تحت خارجہ پالیسی اور دفاعی امور میں اختیارات کی تقسیم کا ایک ایسا نظام بنایا گیا ہے جہاں صدر اور کانگریس (ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ) دونوں ایک دوسرے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
امریکا کی خارجہ پالیسی کے بڑے فیصلے عموماً صدر کے دائرہ کار میں آتے ہیں، تاہم ان فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے کانگریس کا کردار بھی اہم ہوتا ہے۔ جنگ جاری رکھنے سے لے کر دفاعی اخراجات اور دوسرے ممالک کو مالی و فوجی امداد دینے تک، تمام فیصلوں کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب واشنگٹن میں صدر کسی ایک پارٹی کا ہو اور کانگریس میں اکثریت مخالف پارٹی کی ہو تو خارجہ پالیسی کے محاذ پر شدید کھینچ تانی دیکھنے کو ملتی ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات امریکی صدر کو اپنے فیصلے منوانے کے لیے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں فی الحال ریپبلکن پارٹی کا کنٹرول ہے، تاہم انہیں انتہائی معمولی برتری حاصل ہے۔ ایوان نمائندگان میں اکثریت کے لیے 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں، جہاں ڈیموکریٹس کی سیٹوں کی تعداد 214 ہے جب کہ ریپبلکنز کو 218 سیٹوں کے ساتھ معمولی برتری حاصل ہے۔
وہیں سینیٹ میں بھی ریپبلکنز 53 نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت میں ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 47 نشستیں ہیں، دو آزاد اراکین بھی ڈیموکریٹس کے حق میں ہی ووٹ دیتے ہیں۔
دی گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق سیاسی مبصرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکا میں ایران جنگ کے باعث مہنگائی اور ٹرمپ انتظامیہ کے چند دیگر فیصلوں کی وجہ سے مڈٹرم الیکشن میں حکومت مخالف رجحان کا فائدہ اس بار اپوزیشن یعنی ڈیموکریٹس کو ملتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

رائٹرز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق اگر ڈیموکریٹس کانگریس کے کسی ایک یا دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کو محدود کرنے کے لیے چار اہم اقدامات کر سکتے ہیں۔
ایران جنگ
صدر ٹرمپ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے پہلے کانگریس سے منظوری نہیں لی تھی۔ ڈیموکریٹس اس کے بعد متعدد بار ایسی قراردادوں کے حق میں ووٹ دے چکے ہیں جن میں کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ جاری رکھنے کی مخالفت کی گئی۔ ان میں سے ایک قرارداد کو چند ری پبلکن ارکان کی حمایت بھی حاصل ہوئی لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے اسے نظر انداز کر دیا۔
امریکی آئین کے تحت جنگ اور سرکاری اخراجات سے متعلق اہم اختیارات کانگریس کو بھی حاصل ہیں۔ اسی بنیاد پر ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ صدر کو کانگریس کو نظر انداز کرتے ہوئے جنگ اور اس کے اخراجات سے متعلق فیصلے اکیلے نہیں کرنے چاہئیں۔

اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو وہ دفاعی اخراجات میں کمی کے ذریعے ٹرمپ پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ ڈیموکریٹس امریکی اہم عہدیداروں کو جنگ سے متعلق منصوبوں اور آئندہ کی حکمت عملی پر عوامی سماعتوں میں وضاحت کے لیے پابند بھی کر سکتے ہیں۔
کانگریس میں ڈیموکریٹس کی ممکنہ برتری جنگ کے لازمی خاتمے کی ضمانت نہیں ہوگی تاہم اس سے صدر ٹرمپ کے لیے جنگ سے متعلق فیصلے کرنا پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کی فوجی امداد میں کمی
اسرائیل کی غزہ میں جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینیوں کی شہادت سے ڈیموکریٹس میں اسرائیل کی حمایت کم ہوئی ہے۔ جس کے بعد اسرائیل کو امریکی فوجی امداد کے معاملے پر ڈیموکریٹس میں اختلافات اور پالیسی میں نمایاں تبدیلی دیکھی جارہی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری تشدد، یہودی بستیوں کے قیام اور اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کے ری پبلکن قیادت کے ساتھ قریبی تعلقات نے بھی اسرائیل کے حوالے سے پالسی کی تبدیلی میں کردار ادا کیا ہے۔
امریکا نے گزشتہ مالی سال میں اسرائیل کو 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی تھی جو کسی بھی دوسرے ملک کو دی جانے والی امداد سے زیادہ تھی۔ ڈیموکریٹس اسرائیل کو دی جانے والی فوجی امداد محدود یا مکمل طور پر بند کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
رواں موسمِ گرما میں ایوانِ نمائندگان میں تقریباً نصف ڈیموکریٹ ارکان نے اسرائیل کی امداد بند کرنے کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔ اس تجویز کی مخالفت کرنے والے بعض ارکان، جن میں گریگوری میکس بھی شامل ہیں، اسرائیل کو بھاری بموں جیسے ہتھیار فراہم کرنے پر پابندیاں لگانے کی حمایت کر چکے ہیں۔
یوکرین کے لیے امداد کی بحالی
صدر ٹرمپ نے یوکرین کے لیے امریکی مالی اور فوجی امداد بڑی حد تک روک رکھی ہے، حالاں کہ یوکرین کی امداد کے معاملے پر کانگریس میں ڈیموکریٹس اور متعدد ری پبلکن ارکان کی واضح حمایت موجود ہے۔
حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ نے روسی تیل پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر بھی کانگریس کے کئی ارکان نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یہ اختلافات اس لیے بھی نمایاں ہوئے کیوں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے چند ہفتے قبل ہی روسی تیل پر پابندیوں کے قانون پر دستخط کیے تھے۔
اگر نومبر کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو انہیں یہ اختیار مل جائے گا کہ کن معاملات پر کب ووٹنگ ہونی چاہئے۔ اس اختیار کے ذریعے وہ یوکرین کے لیے نئی امداد کی منظوری کی کوشش کر سکتے ہیں، جسے ری پبلکن ارکان کی حمایت بھی مل سکتی ہے۔
دفاعی اخراجات میں کمی
ڈیموکریٹس، ٹرمپ کے ری پبلکن حامیوں کے مقابلے میں دفاعی اخراجات محدود کرنے کے زیادہ حامی ہیں۔
ٹرمپ نے رواں سال امریکی فوجی بجٹ میں 67 فیصد اضافے کی درخواست کی تھی، جس کے تحت اسے بڑھا کر ریکارڈ ایک اعشاریہ پانچ ٹریلین ڈالر تک لے جانے کی تجویز تھی۔ ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں اس تجویز کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ٹرمپ نے ایران جنگ کے معاملے پر کانگریس سے مشاورت نہیں کی اور سماجی بہبود کے پروگراموں میں بھی بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی ہیں۔
اس کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کی منظور کردہ اربوں ڈالر کی بیرونی امداد بھی روک رکھی ہے یا منسوخ کر دی ہے۔ ڈیموکریٹس ان کٹوتیوں پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ وہ امدادی رقوم بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس طرح نومبر کے انتخابات میں کامیابی ڈیموکریٹس کو نہ صرف ٹرمپ کی جنگی پالیسی اور دفاعی اخراجات پر دباؤ ڈالنے بلکہ یوکرین اور اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی اور بیرونی امداد کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہونے کا موقع دے سکتی ہے۔