
امریکا کے سابق صدر باراک اوباما نے اوہائیو اور مشی گن میں انتخابی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کو ایران جنگ، مہنگائی اور حکومتی کارکردگی پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
کلیولینڈ میں خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران ملک نے افراتفری، سخت رویے، بدعنوانی اور نااہلی کا ایسا دور دیکھا ہے جس کی جدید دور میں مثال نہیں ملتی۔ ان کا کہنا تھا کہ وسط مدتی انتخابات عوام کے لیے موجودہ حکومت کے بعض اقدامات کو محدود کرنے کا آخری بہترین موقع ہیں۔
اوباما نے ایران کے جوہری پروگرام کو جنگ کی وجہ قرار دینے کے ٹرمپ انتظامیہ کے مؤقف پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق جنگ کے نتائج امریکی حکومت کے دعوؤں سے مختلف دکھائی دے رہے ہیں۔
ایران جنگ پر تنقید کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ اس تنازع نے ایران کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر ویٹو جیسا اختیار دے دیا ہے۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسی غیر ضروری جنگ شروع کی جس کا کسی نے مطالبہ نہیں کیا تھا۔
اوباما نے کہا کہ وہ ان ووٹرز کے تحفظات کو سمجھتے ہیں جنہوں نے 2024 کے انتخابات میں مہنگائی اور کورونا وبا کے بعد پیدا ہونے والی معاشی مشکلات کے باعث ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ نہیں دیا تھا، تاہم ان کے مطابق موجودہ مہنگائی کی ذمہ داری صدر ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر آپ کو پہلے چیزیں بہت مہنگی لگتی تھیں تو اب ہر چیز مزید مہنگی ہو چکی ہے۔
انہوں نے ریپبلکن گورنر کے امیدوار وویک راماسوامی کی انتخابی مہم کے ایک اشتہار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں ڈیموکریٹک امیدوار ایمی ایکٹن کی والدہ انہیں جھوٹا قرار دیتی دکھائی گئی تھیں۔
اوباما نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ شہرت حاصل کرنے کے لیے بعض لوگ کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے۔ ذرا اس تازہ اشتہار کے بارے میں سوچیں۔
ایمی ایکٹن نے بھی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے راماسوامی پر الزام لگایا کہ وہ اپنی مشکلات کا شکار انتخابی مہم کو بچانے کے لیے ان کے بچپن کے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اوباما نے ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے عمارت میں سونے کے رنگ کی سجاوٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سارا سونا کیوں لگایا جا رہا ہے؟ انہوں نے وائٹ ہاؤس کو ایسا بنا دیا ہے جیسے صدام حسین نے وہاں چیزکیک فیکٹری کھول دی ہو۔
اوہائیو میں اوباما کی انتخابی مہم کا مقصد سابق سینیٹر شیروڈ براؤن اور گورنر کے عہدے کی امیدوار ایمی ایکٹن کی حمایت کرنا تھا۔ براؤن ریپبلکن سینیٹر جان ہسٹڈ کے خلاف انتخاب لڑ رہے ہیں، جبکہ ایکٹن کا مقابلہ وویک راماسوامی سے ہے۔