وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق درخواست نمٹا دی


وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کے معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نااہلی سے متعلق شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا ہے۔
آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جمعرات کو درخواست پر سماعت کی۔
اس دوران عدالت نے قرار دیا کہ صوبے کی حالیہ سیاسی و آئینی پیش رفت کے بعد اس درخواست پر مزید قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعلیٰ کے خلاف حالیہ پیش رفت اور حکومت کی تبدیلی کے بعد یہ درخواست اب بھی قابلِ سماعت ہے؟ جس پر انہوں نے خود ہی وضاحت کی کہ موجودہ صورت حال میں سہیل آفریدی کے پاس وزیراعلیٰ کا عہدہ برقرار نہیں رہا، اس لیے کیس پر مزید سماعت کا جواز نہیں بنتا۔

بینچ کے رکن جسٹس علی باقر نجفی نے بھی اپنے ملاحظات میں کہا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف دائر یہ کیس اب ایک زندہ یا فعال معاملہ نہیں رہا، جبکہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ بالکل الگ قانونی اور آئینی موضوعات ہیں۔
سماعت کے دوران درخواست گزار شیر افضل مروت نے موقف اختیار کیا کہ وہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں اور اس بنیاد پر انہوں نے سہیل آفریدی کی نااہلی کی درخواست پر مختصر التوا دینے کی استدعا کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں ایمرجنسی یا گورنر راج ختم ہوتا ہے تو سہیل آفریدی دوبارہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر بحال ہو جائیں گے۔
تاہم، چیف جسٹس امین الدین خان نے واضح کیا کہ اگر آئندہ کبھی سہیل آفریدی اپنے عہدے پر بحال ہوتے ہیں تو درخواست گزار اس وقت اپنی درخواست کی بحالی کے لیے متفرق درخواست دائر کرنے کا قانونی حق محفوظ رکھتے ہیں، جس کے ساتھ ہی عدالت نے کیس کا خاتمہ کر دیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles