مذاکرات کے روز معاہدہ ہوجاتا تو آج ایمرجنسی نافذ نہ ہوتی: محسن نقوی


وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے آئین کے دائرے میں رہ کر اقدامات کیے، مذاکرات کے دوران دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق نکات پر اتفاق اور 6 ترامیم کی تجاویز بھی قبول کی گئیں، تاہم آخری مرحلے پر معاہدہ نہ ہونے کے باعث 2 روز کی محنت ضائع ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کے روز معاہدہ ہوجاتا تو آج ایمرجنسی نافذ نہ ہوتی، حکومت نہیں چاہتی تھی کہ ایمرجنسی لگے۔
منگل کو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر بحث ہوئی، جس کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے دن سے ہی بات چیت دہشت گردی کے خاتمے پر مرکوز تھی، حکومت نے مذاکرات کے دوران 6 ترامیم کی تجاویز قبول کیں اور طے شدہ تحریر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو بھی فراہم کی گئی لیکن آخری مرحلے پر معاہدہ نہ ہوسکا۔
محسن نقوی نے کہا کہ اگر مذاکرات کے روز معاہدہ ہوجاتا تو آج ایمرجنسی نافذ نہ ہوتی، حکومت نہیں چاہتی تھی کہ ایمرجنسی لگے تاہم یہ بھی ممکن نہیں کہ فوج اور پولیس کے اہلکار جانیں قربان کرتے رہیں اور حکومت ان کا ساتھ نہ دے۔

وزیر داخلہ کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطے بھی کیے۔ انہوں نے بتایا کہ 10 تاریخ کو بیرسٹر گوہر سے رابطہ کرکے پوچھا گیا کہ معاہدے کے پیراگراف نمبر 4 میں کیا ترمیم درکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں ڈیڈلاک کی ذمہ داری پی ٹی آئی قیادت پر عائد ہوتی ہے، ان کے مطابق ماضی میں بھی 26 نومبر کو بانی پی ٹی آئی کے ویڈیو پیغام اور دھرنا مؤخر کرنے کے معاملے پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔
محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تمام اقدامات آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق کیے گئے ہیں اور حکومت نے آئین سے باہر جاکر کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق ہر شق کا جائزہ لیا اور دیکھا کہ کسی شق کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر کسی کے نزدیک آئین کی کسی شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو آئینی ماہرین اس کی نشاندہی کریں۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا اختیار 26 نومبر کو بھی موجود تھا، لیکن اس وقت یہ راستہ اختیار نہیں کیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت پہلے ہی یہ اقدام کرنا چاہتی تھی تو پھر پی ٹی آئی قیادت سے مذاکرات اور رابطے کیوں کیے جاتے؟

وزیر داخلہ نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات اور افغانستان سے آنے والے افراد کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث افراد میں سے تقریباً 80 فیصد افغانستان سے آرہے ہیں، ہمیں نہیں معلوم ان کا قبیلہ کیا ہے یا شناخت کیا ہے،
انہوں نے پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے رابطوں کا دعویٰ بھی کیا اور کہا کہ مناسب وقت آنے پر اس حوالے سے ثبوت پیش کیے جائیں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل بھی وہ رات گئے تک رابطے کرتے رہے تاکہ مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق حکومت کو درپیش مشکلات کا اندازہ ہے لیکن کیا یہ مشکلات سیکیورٹی اہلکاروں کی جانوں سے زیادہ اہم ہیں؟
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی فیصلہ نہیں کر رہے تھے جب کہ مراد سعید نے مذاکرات سبوتاژ کیے۔ محسن نقوی کے بقول، صوبائی کابینہ کے بعض ارکان بھی یہ کہہ رہے تھے کہ مراد سعید کی وجہ سے انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔
وزیر داخلہ نے مزید دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے واقعات کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے تو 10 میں سے 7 یا 8 افراد افغان نکلتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے جتنا اختیار دیا ہے، اسے امانت سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے۔
محسن نقوی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت کے بعض افراد کے طالبان سے تعلقات کے بارے میں انہیں معلومات تھیں اور وقت آنے پر وہ اس حوالے سے ثبوت پیش کریں گے۔ ان کے مطابق حکومت کو یہ بھی معلوم تھا کہ کون کس کو کتنی رقم دے رہا ہے۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ مسترد
دوسری جانب سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کو سیکیورٹی معاملات کے ساتھ جوڑنا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ نظام ناکام ہوچکا ہے تو ایمرجنسی صرف خیبرپختونخوا میں کیوں نافذ کی گئی؟ ان کے مطابق اگر یہی معیار ہے تو بلوچستان اور اسلام آباد میں بھی ایمرجنسی نافذ کی جانی چاہیے۔ راجہ ناصر عباس نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت نے سیاسی مخالفین کی واپسی کے لیے آخری راستہ بھی بند کردیا ہے؟
سیکیورٹی صورت حال کے باعث ایمرجنسی لگائی گئی: اسحاق ڈار
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے لیڈر آف ہاؤس اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت کی تسلی پر پاکستان کی سیکیورٹی صورت حال اور بیرونی دہشت گردی کے باعث ایمرجنسی لگائی گئی ہے، ملک میں دہشت گردی کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہوچکے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا دوسرے صوبوں میں جاکر عوام کو متحرک کررہے تھے۔ اسحاق ڈار نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ دوسرا 9 مئی کرنے نہیں جارہے تھے؟

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مفاہمت کی کوششیں اپنی جگہ لیکن ریاست اور عوام کی بقا کے لیے سخت فیصلے ناگزیر تھے۔ معاملہ اب بات چیت سے کافی آگے جاچکا ہے اور ہمیں دہشت گردی کو ختم کرنا ہوگا۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف قرارداد جمع
ادھر سینیٹ میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف قرارداد جمع کرا دی گئی۔ سینیٹر علی ظفر، راجہ ناصر عباس اور دیگر سینیٹرز کی جانب سے جمع کرائی گئی قرارداد میں ایمرجنسی کا اعلان فوری واپس لینے، متعلقہ احکامات منسوخ کرنے اور منتخب وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔
قرار داد کے متن میں آئین، پارلیمانی جمہوریت، وفاقی نظام اورصوبائی خودمختاری سے وابستگی کے عزم کا اعادہ کرتےہوئے خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنے پر زور دیا گیا۔
قرارداد میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ منتخب وزیراعلیٰ اور کابینہ کو ہٹا دیا گیا تاہم صوبائی اسمبلی برقرار ہے، وفاق اور صوبے کے درمیان سیکیورٹی پالیسی پر اختلاف یا سیاسی مذاکرات کی ناکامی ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا جواز نہیں بن سکتی، دہشت گردی کا خاتمہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔
قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں منتخب صوبائی حکومت کی مشاورت اور شراکت سے کی جائیں۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر بحث کے بعد سینیٹ اجلاس کی کارروائی بدھ کی شام 4 بجے تک ملتوی کردی گئی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles