ٹرمپ نے ساتھیوں کے مقدمات ختم کرنے کے لیے سزا معافی کے اختیار کا بے دریغ استعمال کیا: رائٹرز

صدر ٹرمپ نے امریکی آئین کے تحت حاصل مجرموں کی سزا معافی کے آئینی اختیار کو اپنے سیاسی وفاداروں، قریبی ساتھیوں اور حامیوں کے مقدمات ختم کرنے کے لیے بے دریغ استعمال کیا ہے۔ ٹرمپ کے دونوں ادوار میں سیاست دانوں اور سرکاری عہدیداروں کو دی گئی صدارتی معافی کا سب سے زیادہ فائدہ ری پبلکن پارٹی کے ارکان اور صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کے حامی کو پہنچا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق قانونی ماہرین نے صدر ٹرمپ کی جانب سے صدارتی معافی کے حد سے زیادہ استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے احتساب کے عمل کو کمزور کرنے اور بدعنوانی کی حوصلہ افزائی کے مترادف قرار دیا ہے۔

رائٹرز کے جائزے کے مطابق ٹرمپ نے اب تک کم از کم 85 ایسے سرکاری عہدیداروں کو صدارتی معافی دی ہے جو کرپشن کے مقدمات میں سزا یافتہ یا الزامات کا سامنا کررہے تھے۔

صدارتی معافی پانے والے ان تمام افراد میں سے 36 ری پبلکن پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے جب کہ مزید 19 ری پبلکنز کو سیاسی عہدوں پر مقرر کیا گیا تھا۔ 9 دیگر افراد نے ٹرمپ کی انتخابی مہم چلائی تھی یا عوامی سطح پر ان کے سیاسی ایجنڈے ’میک امریکا گریٹ اگین‘ (میگا) کی حمایت کی تھی۔

اس فہرست میں صرف 4 افراد ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان 4 ڈیموکریٹس میں ٹیکساس کے ایک رکنِ کانگریس ہنری کوئلار بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں ٹرمپ نے معافی دیتے وقت یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ وہ جماعت تبدیل کر لیں گے۔

صدارتی ریلیف کے نتیجے میں یہ تمام افراد مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ ڈالر سے زائد کے جرمانے ادا کرنے سے بچ گئے۔ ان میں سے نصف سے زائد تر افراد اب بھی سیاست میں سرگرم ہیں یا صدر ٹرمپ کے ایجنڈے کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں۔

رپورٹ میں ریاست نیواڈا میں ری پبلکن عہدیدار مشیل فیورے کا نمایاں طور پر ذکر کیا گیا ہے، جنہیں ’لیڈی ٹرمپ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

مشیل فیورے کو وفاقی جیوری نے ہلاک پولیس افسر کی یادگار کے لیے جمع کیے گئے 80 ہزار ڈالر کے عطیات کو ذاتی اخراجات (پلاسٹک سرجری اور بیٹی کی شادی وغیرہ) پر خرچ کرنے کے جرم میں سزا سنائی تھی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے انہیں سزا کے باقاعدہ اعلان سے چند ہفتے قبل ہی معافی دے دی، جس سے وہ جیل جانے سے بچ گئیں۔

اسی طرح رشوت ستانی میں ملوث ریاست ٹینیسی کی قانون ساز اسمبلی کے ری پبلکن ارکان الینوائے کے سابق ڈیموکریٹ گورنر راڈ بلاگوجیچ کو بھی صدارتی اختیارات کے تحت ریلیف دیا گیا۔ بلاگوجیچ اب لابسٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور ٹرمپ کے حامی بن چکے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles