اسرائیل میں لبنان سرحد کے قریب دھماکا، 20 یہودی زخمی

اسرائیل کے شمالی علاقے میں لبنان کی سرحد کے قریب دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 20 یہودی زخمی ہوگئے، جن میں بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے جب کہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ دھماکا پیر کو نیوٹ مورداخائی نامی آبادی کے قریب ہوا، جو کِبُتز منارا اور کِبُتز یفتاح کے درمیان واقع ہے۔

اسرائیلی امدادی ادارے میگن ڈیوڈ ایڈوم کے مطابق طبی عملہ جائے وقوعہ پر زخمیوں کو امداد فراہم کررہا ہے۔ ادارے نے بتایا کہ 8 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے جب کہ متعدد افراد معمولی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

شمالی شہر معالوت ترشیحا کی بلدیہ کے مطابق زخمیوں میں ایک مذہبی ہائی اسکول کے طلبہ اور عملے کے افراد شامل ہیں، جو تفریحی دورے پر گئے ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق کریات شمونہ اسٹیشن کے اہلکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ بم ناکارہ بنانے والے ماہرین دھماکے کی وجوہات اور اس کے ماخذ کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کررہے ہیں۔

الجزیرہ کی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ سے رپورٹنگ کرنے والی نور عودہ کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی گئی ہے تاہم دھماکے کی اصل وجہ اور حالات کے بارے میں تاحال تفصیلات واضح نہیں ہوسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ شمالی اسرائیل، بالخصوص بالائی گلیل اور لبنان کی سرحد سے متصل علاقے میں فوجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ گزشتہ 3 برس کے دوران اس علاقے میں بڑی تعداد میں گولہ بارود استعمال کیا گیا ہے۔

نور عودہ کے مطابق دھماکے کے بعد اسرائیلی سیاسی قیادت بھی متحرک ہوگئی ہے۔ وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوگئے جب کہ وزیر قومی سلامتی اتمار بن گویر نے اپنی طے شدہ سیاسی مصروفیت منسوخ کردی۔

اسرائیلی فوج نے بھی بتایا کہ شمالی اسرائیل میں دھماکے کے مقام پر فوجی اہلکار اور ہیلی کاپٹر روانہ کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق غزہ میں 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے نتیجے میں شمالی اسرائیل میں رہنے والے ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑنا پڑے تھے۔

رواں سال مارچ میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے بعد کشیدگی دوبارہ بڑھنے پر اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان پر قبضہ شروع کردیا۔ اس دوران اسرائیلی فوج لبنان میں کارروائیاں کرتی رہی جب کہ حزب اللہ کی جانب سے بھی سرحد پار وقفے وقفے سے راکٹ فائر کیے جاتے رہے۔

نور عودہ کے مطابق شمالی اسرائیل سے نقل مکانی کرنے والے بہت سے شہری اب تک واپس نہیں آئے کیوں کہ انہیں یقین نہیں کہ حکومت ان کی حفاظت یقینی بنا سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ راکٹ حملوں سے آبادیوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا اور خطے میں غیر یقینی صورتِ حال برقرار رہنے کے باعث شہریوں کی واپسی کی حوصلہ افزائی نہیں ہوسکی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles