دبئی میں سڑکوں، رہائشی علاقوں اور گھروں کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والے سائن بورڈز کو نئی شکل دی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت بورڈز کے ڈیزائن اور رنگوں کو یکساں بنایا جائے گا، جبکہ گھروں کے نمبر پلیٹس اور دیگر سائن بورڈز پر کیو آر کوڈز بھی متعارف کرائے جائیں گے، تاکہ رہائشیوں، ڈرائیوروں اور سیاحوں کے لیے مطلوبہ مقام تلاش کرنا آسان ہو۔
گلف نیوز کے مطابق دبئی کے نئے ایڈریسنگ سسٹم کے تحت یہ تبدیلیاں 2030 تک 186 علاقوں میں متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔ اس کا مقصد گلیوں، رہائشی آبادیوں اور انفرادی عمارتوں کی شناخت کے نظام کو زیادہ واضح اور یکساں بنانا ہے۔
نئے نظام میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟
سپریم کمیٹی برائے شہری منصوبہ بندی، دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (آر ٹی اے) اور دبئی میونسپلٹی کے تعاون سے اس منصوبے پر عمل درآمد کرے گی۔
نئے نظام میں رہائشی علاقوں اور محلوں کی شناخت کے لیے نئے سائن بورڈز نصب کیے جائیں گے۔ اندرونی سڑکوں اور گلیوں کے نام ظاہر کرنے والے بورڈز کو بھی نئے ڈیزائن کے مطابق تبدیل کیا جائے گا۔
گھروں اور عمارتوں کی نمبر پلیٹس کو بھی نئی شکل دی جائے گی۔ ان پر دبئی کا مکان نمبر درج ہوگا، جو ہر مقام کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والا منفرد 10 ہندسوں کا نمبر ہے۔ اس کے ساتھ کیو آر کوڈ بھی موجود ہوگا، جسے موبائل فون سے اسکین کرکے متعلقہ مقام کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں گی۔
نئے سائن بورڈز پر موجود کیو آر کوڈز کے ذریعے مختلف علاقوں، گلیوں اور محلوں کے ناموں کی وجوہات، قریبی اہم مقامات اور سیاحتی مقامات کے بارے میں معلومات بھی فراہم کی جائیں گی۔
مستقبل کے مراحل میں اس نئے ڈیزائن کو بس اسٹاپس، اسمارٹ فون ایپلی کیشنز اور علاقوں کے نقشوں والے بورڈز تک بھی توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔
کن علاقوں میں پہلے کام شروع ہوگا؟
منصوبے کے پہلے مرحلے کا آغاز 2026 میں ہی ہوگا، جس کے تحت پانچ علاقوں میں 2 ہزار سے زائد سائن بورڈز نصب یا تبدیل کیے جائیں گے۔ ان علاقوں میں زعبیل ایک، زعبیل دو، ند الشیبا، الخوانیج ایک اور نذوہ شامل ہیں۔
منصوبے کی وسیع تر توسیع 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں شروع ہوگی۔ اس مرحلے میں دبئی کے 19 سیکٹرز میں واقع مجموعی طور پر 186 علاقوں کو شامل کیا جائے گا، جبکہ تمام کام 2030 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ترجیحی علاقوں کا انتخاب کرتے وقت آبادی کی کثافت، شہری آبادی میں اضافے، ٹریفک کی سرگرمیوں، رہائشی اور سیاحتی مقامات کی اہمیت اور ان سڑکوں کی تعداد کو مدنظر رکھا جائے گا جن کے پتے ابھی باضابطہ طور پر مقرر نہیں کیے گئے۔
دبئی کے موجودہ سڑکوں کے سائن بورڈز کے رنگ کیا بتاتے ہیں؟
نئے منصوبے میں بنیادی طور پر رہائشی علاقوں، اندرونی سڑکوں اور گھروں کی شناخت کے بورڈز کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس اعلان میں دبئی کے موجودہ رنگوں پر مبنی ہائی وے نیویگیشن سسٹم کو ختم کرنے یا تبدیل کرنے کا فیصلہ شامل نہیں ہے۔
دبئی میں مختلف رنگوں کے سائن بورڈز پہلے ہی سڑکوں کی نوعیت اور منزلوں کی شناخت میں مدد دیتے ہیں۔
نیلے رنگ کے بورڈز متحدہ عرب امارات کی مختلف ریاستوں کو آپس میں ملانے والی سڑکوں، یعنی ای روٹس، کی نشاندہی کرتے ہیں۔ شیخ زاید روڈ (E11) اور ایمریٹس روڈ (E611) اس نظام میں شامل اہم سڑکوں کی مثالیں ہیں۔

سبز رنگ کے بورڈز دبئی کے اندر موجود سڑکوں، جنہیں ڈی روٹس کہا جاتا ہے، کی شناخت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد ڈرائیوروں کو امارت کے مختلف حصوں تک پہنچنے میں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔

سفید رنگ کے سائن بورڈز عام طور پر رہائشی علاقوں اور محلوں کی اندرونی سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ ان پر گلیوں اور سڑکوں کے نام درج ہوتے ہیں، جس سے رہائشیوں، مہمانوں اور سامان پہنچانے والے افراد کو درست پتا تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے۔
بھورے رنگ کے بورڈز سیاحتی مقامات، اہم عمارتوں اور دیگر قابلِ دید مقامات کی جانب جانے والے راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان پر متعلقہ منزل کی نوعیت ظاہر کرنے والی علامات بھی موجود ہو سکتی ہیں۔
نیا نظام کب تک مکمل ہوگا؟
دبئی میں نئے ایڈریسنگ سسٹم پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا اور 2030 تک اسے تمام 186 منتخب علاقوں میں متعارف کرانے کا ہدف ہے۔
مجموعی طور پر اس منصوبے کے تحت چار چیزوں میں تبدیلی آئے گی۔ پہلی چیز مختلف محلوں اور علاقوں کی نشاندہی کرنے والے سائن ہیں، جن کے ڈیزائن نئے ہوں گے۔ دوسری چیز رہائشی اور دیگر علاقوں کے اندر موجود گلیوں کے نام والے بورڈز ہیں، جنہیں اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ تیسری چیز گھروں کی نمبر پلیٹس ہیں، جن پر مکان نمبر کے ساتھ کیو آر کوڈ بھی دیا جائے گا۔ چوتھی چیز یہ ہے کہ دیگر سائن بورڈز پر بھی کیو آر کوڈ لگائے جائیں گے، جنہیں اسکین کر کے لوگ مقام، گلی کے نام اور قریبی مشہور جگہوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر سکیں گے۔
عام شہریوں کے لیے اس منصوبے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ گلیوں اور علاقوں کے بورڈز ایک جیسے اور واضح نظر آئیں گے، گھروں کی نمبر پلیٹس نئی ہوں گی، اور کیو آر کوڈ کی مدد سے کسی بھی مقام کے بارے میں اضافی معلومات موبائل پر دیکھنا ممکن ہو جائے گا۔