
سورج سے خارج ہونے والے مادے کے دو بڑے بادل زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں، جن کے 11 اکتوبر کو ہمارے سیارے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین کے مقناطیسی میدان میں خلل پڑ سکتا ہے، جس سے بعض سیٹلائٹس، ریڈیو مواصلات اور نیویگیشن سسٹمز متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی ادارے نیشنل اوشیئنک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) نے اس ممکنہ صورتحال کے پیش نظر درمیانے درجے کے جی ٹو جیو میگنیٹک طوفان کی وارننگ جاری کی ہے۔ تاہم، اس کے حقیقی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سورج سے آنے والا مادہ زمین کے مقناطیسی میدان کے ساتھ کس طرح تعامل کرتا ہے۔
شمسی طوفان کیا ہے؟
شمسی طوفان اس وقت پیدا ہوتا ہے جب سورج پر ہونے والی سرگرمیوں کے نتیجے میں توانائی اور مادہ خلا میں خارج ہوتا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ ’کورونا ماس ایجیکشن‘ ہے، جس میں سورج سے برقی چارج رکھنے والے ذرات اور مقناطیسی مادے کے بڑے بادل خلا میں خارج ہوتے ہیں۔
جب یہ بادل زمین کے قریب پہنچتے ہیں تو سیارے کے مقناطیسی میدان میں خلل پیدا ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں جیو میگنیٹک طوفان جنم لیتا ہے۔
این او اے اے ایسے طوفانوں کی شدت کو پانچ درجوں میں تقسیم کرتا ہے۔ جی ون معمولی جبکہ جی فائیو انتہائی شدید طوفان کی نشاندہی کرتا ہے۔ درجہ جتنا زیادہ ہو، ممکنہ خلل کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔ شمسی تابکاری کے طوفانوں اور ریڈیو بلیک آؤٹ کے لیے الگ پیمانے استعمال کیے جاتے ہیں، جو خلائی موسم کے مختلف اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔
11 اکتوبر کو کیا ہوسکتا ہے؟
این او اے اے کے اسپیس ویدر پریڈکشن سینٹر کے مطابق، متوقع جی ٹو طوفان کا تعلق سورج سے 7 اور 8 اکتوبر کو خارج ہونے والے دو مادّی بادلوں سے ہے۔ دوسرا بادل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے حرکت کر رہا ہے اور امکان ہے کہ زمین تک پہنچنے سے پہلے دونوں بادل آپس میں مل جائیں۔
پیش گوئی کے مطابق، اس سرگرمی سے زمین کے مقناطیسی میدان میں درمیانے درجے کی بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔ تاہم، طوفان کی حتمی شدت کا اندازہ اس وقت زیادہ واضح ہوگا جب یہ مادہ زمین کے قریب پہنچے گا اور اس کی خصوصیات کا جائزہ لیا جائے گا۔
جی ٹو درجے کے طوفان کے اثرات عموماً زمین کے بلند عرض البلد والے علاقوں میں زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ ان علاقوں میں بجلی کی ترسیل کے نظام میں وولٹیج کے اتار چڑھاؤ کا امکان ہوسکتا ہے، جبکہ سیٹلائٹ آپریٹرز کو اپنے نظام میں ضروری تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔ بعض مقامات پر ریڈیو سگنلز کمزور ہونے اور سیٹلائٹ نیویگیشن کی درستگی متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
شمالی اور جنوبی قطبی علاقوں میں رنگ برنگی روشنیوں کے قدرتی مظاہرے، جنہیں ”ارورا“ کہا جاتا ہے، معمول سے زیادہ دور واقع علاقوں میں بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔ یہ روشنیاں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب سورج سے آنے والے چارج شدہ ذرات زمین کی بالائی فضا میں موجود گیسوں کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔
شمسی طوفان کے ممکنہ اثرات کا انحصار اس کی حتمی شدت اور زمین کے مقناطیسی میدان کے ساتھ اس کے تعامل پر ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، درمیانے درجے کے اس طوفان سے بعض علاقوں میں سیٹلائٹ نیویگیشن، ریڈیو مواصلات اور بجلی کے نظام متاثر ہوسکتے ہیں، تاہم بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش یا روزمرہ زندگی میں وسیع خلل پڑنے کی فی الحال پیش گوئی نہیں کی گئی۔
مجموعی طور پر، 11 اکتوبر کے لیے جاری کی گئی وارننگ ایک پیش گوئی ہے، حتمی صورتحال نہیں۔ سورج سے خارج ہونے والے مادے کی رفتار اور مقناطیسی خصوصیات کے مطابق زمین پر اس کے اثرات میں تبدیلی آسکتی ہے۔ اس لیے طوفان کی شدت اور ممکنہ اثرات کے بارے میں زیادہ واضح صورت حال اس کے زمین کے قریب پہنچنے پر سامنے آئے گی۔