
روس میں طاعون پر تحقیق کرنے والے ادارے کے ایک لیبارٹری ملازم کی پراسرار موت کے بعد امریکا نے ماسکو سے باضابطہ طور پر مزید معلومات طلب کرلی ہیں، جبکہ امریکی حکام ممکنہ وبائی خطرے سے نمٹنے کے لیے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق سائبیریا کے ارکتسک ریسرچ اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ میں 28 سالہ ٹیکنیشن کی موت کے بعد امریکی انتظامیہ نے روسی حکام سے رابطہ کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ روسی حکومت سے اضافی معلومات باضابطہ طور پر مانگی گئی ہیں اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی معلومات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ روس کو اس معاملے پر دنیا کے ساتھ مزید معلومات شیئر کرنی چاہئیں، تاہم محدود معلومات کی موجودگی میں کسی نتیجے پر پہنچنا یا قیاس آرائی کرنا غیر ذمہ دارانہ ہوگا۔ امریکی حکام کے مطابق روسی حکومت سے گزشتہ جمعہ سے رابطہ جاری ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے اس معاملے پر جلد بات کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی حکام کو اب تک روس کی جانب سے محدود تعاون ملا ہے اور فراہم کردہ معلومات کے حوالے سے بھی شکوک موجود ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ آیا ہلاک ہونے والا لیبارٹری ملازم نمونیا کا باعث بننے والے طاعون، یعنی نیومونک پلیگ کا شکار ہوا یا کسی دوسری نامعلوم متعدی بیماری میں مبتلا تھا۔
اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ میں طاعون کے علاوہ ہیضہ، اینتھراکس اور بروسیلوسس سمیت دیگر خطرناک بیماریوں پر بھی تحقیق کی جاتی ہے۔ امریکی حکام یہ بھی جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا زیرِ تحقیق بیماری میں کسی قسم کی جینیاتی تبدیلی کی گئی تھی یا نہیں۔
روسی حکام نے اس معاملے میں اس ہسپتال کو قرنطینہ کردیا ہے جہاں لیبارٹری ملازم زیر علاج تھا، جبکہ مقامی میڈیا کے مطابق تقریباً 200 افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔ تاہم امریکی حکام نے فی الحال روس کے لیے نئی سفری پابندیاں عائد نہیں کیں اور کہا ہے کہ مزید معلومات سامنے آنے تک صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق نیشنل سکیورٹی کونسل، محکمہ خارجہ، سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) اور دیگر وفاقی ادارے معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی روسی حکام سے رابطہ کرکے واقعے کی تفصیلات کی تصدیق کی کوشش کی ہے۔
ماہرین کے مطابق نیومونک پلیگ ایک بیکٹیریا سے ہونے والی بیماری ہے جو علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا ہوسکتی ہے، تاہم اینٹی بایوٹکس کے ذریعے اس کا مؤثر علاج ممکن ہے۔ روس میں واقع تحقیقاتی مرکز کا نسبتاً دور دراز مقام اور بیماری کی محدود تیز رفتار منتقلی کے باعث ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری خطرے کو قابو میں رکھنے کے امکانات موجود ہیں۔