چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس کی تحریروں میں پوشیدہ واٹر مارک شامل

اے آئی سے تیار ہونے والے مواد کی شناخت آج کے دور میں ایک اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یہ واضح کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کوئی تحریر انسان نے لکھی ہے یا اے آئی نے۔ اسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی اور کوڈیکس سے تیار ہونے والے متن میں ایک ایسا خفیہ نشان یعنی پوشیدہ واٹر مارک شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی مدد سے اے آئی سے تیار کردہ تحریر کی شناخت ممکن ہو سکے گی۔

کمپنی کے مطابق یہ واٹرمارک عام انسان کو نظر نہیں آئے گا، تاہم خصوصی ڈٹیکشن ٹولز اس کی مدد سے یہ معلوم کر سکیں گے کہ کوئی متن مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہے یا نہیں۔

اوپن اے آئی کے اس نظام کا نام ’ٹیکسٹ گرین‘ (text Grain) رکھا گیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی متن میں ایسے الفاظ اور ان کے انتخاب کا ایک مخصوص انداز پیدا کرتی ہے جو بظاہر عام تحریر ہی محسوس ہوتا ہے، لیکن کمپیوٹرائزڈ نظام اس میں موجود مخصوص پیٹرن کو پہچان سکتا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ متن کو کاپی اور پیسٹ کرنے کے بعد بھی یہ نشان برقرار رہ سکتا ہے۔

ابتدائی طور پر یہ نظام یورپی یونین میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق فی الحال اسے دنیا بھر میں لازمی طور پر نافذ کرنے کا منصوبہ نہیں ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں محدود پیمانے پر آغاز اسے حقیقی دنیا میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال، نتائج اور صارفین کے ردعمل کو سمجھنے کا موقع دے گا۔

اس اقدام کی ایک بڑی وجہ یورپی یونین کا اے آئی ایکٹ ہے۔ اس قانون کے تحت جنریٹو اے آئی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اس بات کا انتظام کرنا ہوگا کہ اے آئی سے تیار ہونے والے مواد کی مشینی انداز میں شناخت ممکن ہو۔ اوپن اے آئی کا ’ٹیکسٹ گرین‘ اسی تقاضے کو پورا کرنے کی کوشش ہے۔

کمپنی کے مطابق واٹرمارک لگانے سے متن کے معیار یا اے آئی ماڈل کی کارکردگی میں کوئی نمایاں فرق نہیں پڑتا۔ اوپن اے آئی نے مختلف بینچ مارکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ واٹرمارک کے ساتھ اور اس کے بغیر تیار کیے گئے متن کی کارکردگی تقریباً یکساں رہی۔

اوپن اے آئی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ’ٹیکسٹ گرین‘ صارف کی شناخت نہیں کرتا اور نہ ہی یہ بتاتا ہے کہ صارف نے اے آئی کو کیا ہدایت یا پرامپٹ دیا تھا۔ اگر ڈٹیکشن ٹول کو واٹرمارک ملتا ہے تو وہ صرف یہ بتائے گا کہ متن میں اے آئی واٹرمارک موجود ہے۔

تاہم کمپنی اس نظام کو سو فیصد قابلِ اعتماد شناخت کا ذریعہ قرار نہیں دے رہی۔ اوپن اے آئی کے مطابق مختصر تحریروں میں واٹرمارک کی شناخت مشکل ہو سکتی ہے کیونکہ وہاں الفاظ کے انتخاب کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ کمپنی کی ایک آزمائش میں نفسیات کے تقریباً 200 ٹوکنز پر مشتمل تحریروں میں واٹرمارک کی شناخت تقریباً 80 فیصد رہی، جبکہ 400 ٹوکنز کے متون میں یہ شرح تقریباً 95 فیصد تک پہنچ گئی۔

مختلف موضوعات میں بھی نتائج ایک جیسے نہیں رہے۔ مثال کے طور پر ریاضی جیسے شعبوں میں واٹرمارک کی شناخت نسبتاً مشکل ہوسکتی ہے، کیونکہ ایسے متن میں مصنف یا ماڈل کے پاس الفاظ کے انتخاب کی آزادی کم ہوتی ہے۔

تحریر میں تبدیلیاں کرنے سے بھی واٹرمارک کمزور ہوسکتا ہے۔ اوپن اے آئی کے ایک تجربے میں 400 ٹوکنز کے متن کے تقریباً 10 فیصد الفاظ کو مترادفات سے تبدیل کیا گیا تو واٹرمارک کی شناخت کی شرح تقریباً 92 فیصد سے کم ہو کر 66 فیصد رہ گئی۔ اگر 25 فیصد الفاظ تبدیل کیے گئے تو شناخت کی شرح صرف 17 فیصد رہ گئی۔ اسی طرح کسی متن کا دوسری زبان میں ترجمہ کرنا بھی واٹرمارک کی شناخت کو مشکل بنا سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی متن پر واٹرمارک نظر نہ آئے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوگا کہ وہ لازماً انسان نے لکھا ہے۔ متن میں انسانی ترمیم، ترجمہ، پرانے اے آئی ماڈل یا کسی دوسرے اے آئی ٹول کے استعمال کی وجہ سے بھی واٹرمارک غائب یا کمزور ہوسکتا ہے۔

یہاں ’ٹوکنز‘ سے مراد عام طور پر اے آئی کے لیے متن کے چھوٹے حصے ہیں، جو مکمل الفاظ کے برابر نہیں ہوتے۔

اوپن اے آئی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ’ٹیکسٹ گرین‘ صرف متن کے اے آئی سے تیار ہونے کی ممکنہ شناخت میں مدد دے گا۔ یہ اس بات کی تصدیق نہیں کرتا کہ متن میں دی گئی معلومات درست ہیں یا غلط، اور نہ ہی یہ بتاتا ہے کہ تحریر میں انسان کا کتنا حصہ شامل تھا۔

دنیا کی دیگر اے آئی کمپنیاں بھی اسی سمت میں بڑھ رہی ہیں۔ گوگل ڈیپ مائنڈ پہلے ہی ’سنتھ آئی ڈی‘ کے ذریعے اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت کے لیے واٹرمارکنگ ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے، جبکہ اینتھروپک نے بھی کلاڈ سے تیار ہونے والے متن اور فائلوں کے لیے اسی نوعیت کا نظام متعارف کرایا ہے۔

اوپن اے آئی کے مطابق ’ٹیکسٹ گرین‘ کا ایک آپشن آج سے دنیا بھر میں اس کے بعض اے پی آئی صارفین کے لیے بھی دستیاب ہوگا، تاہم وہ اسے رضاکارانہ طور پر استعمال کرسکیں گے۔ کمپنی محققین اور ماہر اداروں کو اپنے ڈٹیکشن ٹول تک رسائی دینے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اے آئی سے تیار ہونے والے مضامین، تعلیمی کام، سوشل میڈیا پوسٹس اور دیگر مواد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ خفیہ واٹرمارک ایسے مواد کی شناخت میں مدد دے سکتا ہے، لیکن اوپن اے آئی کی اپنی وضاحت کے مطابق اسے حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

مستقبل میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ایسی ٹیکنالوجی یورپی یونین سے باہر کتنی وسیع پیمانے پر اختیار کی جاتی ہے اور مختلف اے آئی کمپنیاں اپنے نظاموں کو کس حد تک ایک دوسرے کے ساتھ قابلِ شناخت بناتی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles