
ایپل کے میک صارفین اب اپنے کمپیوٹر میں 12 جی بی تک اسٹوریج خالی کر سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے انہیں ایپل کی اے ئی کی سہولت ’ایپل انٹیلیجنس‘ سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
اس مقصد کے لیے ’ریموو میک اے آئی‘ کے نام سے ایک اوپن سورس ٹول سامنے آیا ہے، جو میک سے ایپل انٹیلیجنس کو بند کرنے کے ساتھ اس کے اے آئی ماڈلز بھی حذف کر دیتا ہے۔ ٹول کا ایک اور کام یہ ہے کہ وہ میک او ایس کو ان ماڈلز کو دوبارہ ڈاؤن لوڈ کرنے سے روکتا ہے۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’میک رومرز‘ کے مطابق ریموو میک اے آئی کے ڈویلپر کا کہنا ہے کہ نئے ’میک او ایس 27‘ میں ایپل انٹیلیجنس کو ایک ہی بٹن سے بند کرنے کا سابقہ طریقہ موجود نہیں رہا۔ اب صارفین کو مصنوعی ذہانت سے جڑی مختلف سہولیات الگ الگ بند کرنا پڑتی ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ فیچرز بند کرنے کے باوجود ایپل انٹیلیجنس کے اے آئی ماڈلز میک میں محفوظ رہ سکتے ہیں اور تقریباً 12 جی بی اسٹوریج استعمال کر سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ایپل انٹیلیجنس کے ماڈلز میک میں کیوں محفوظ کیے جاتے ہیں؟ تو جناب اس کو جواب یہ ہے کہ ایپل انٹیلیجنس کی تمام سہولیات انٹرنیٹ پر موجود سرورز کے ذریعے نہیں چلائی جاتیں۔ ایپل نے بعض اے آئی ماڈلز میک میں ہی محفوظ رکھنے کا سسٹم بنایا ہے تاکہ کئی کام براہ راست کمپیوٹر پر انجام دیے جا سکیں۔
’رائٹنگ ٹولز‘، ’جین موجی‘، ’امیج پلے گراؤنڈ‘ اور ’سِری‘ کے بعض اے آئی فیچرز اسی نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
یہ اضافی اسٹوریج خاص طور پر ان صارفین کے لیے اہم ہے جن کے میک میں 256 جی بی کی محدود گنجائش ہے۔ چونکہ میک کی اندرونی اسٹوریج عام طور پر بعد میں اپ گریڈ نہیں کی جا سکتی، اس لیے 12 جی بی کی اسپیس صارفین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
ریموو میک اے آئی کیسے کام کرتا ہے؟
ٹول کے ڈویلپر کے مطابق ریموو میک اے آئی ایپل انٹیلیجنس سے متعلق سہولیات کو غیر فعال کرنے کے بعد میک میں محفوظ اے آئی ماڈلز کو بھی ہٹا دیتا ہے اور انہیں دوبارہ ڈاؤن لوڈ ہونے سے روکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس عمل کے لیے صارف کو ’سسٹم انٹیگریٹی پروٹیکشن‘ بند کرنے یا میک کی محفوظ سسٹم فائلز کو خود تلاش کرکے حذف کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اس تبدیلی کے بعد بھی ’ڈکٹیشن‘ کی سہولت معمول کے مطابق کام کرتی رہتی ہے، کیونکہ اسے ایپل انٹیلیجنس سے الگ نظام کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔
اگر صارف بعد میں ایپل انٹیلیجنس دوبارہ استعمال کرنا چاہے تو ریموو میک اے آئی میں موجود ’ریورٹ‘ کمانڈ کے ذریعے تبدیلیاں واپس کی جا سکتی ہیں۔ اس کے بعد اے آئی ماڈلز دوبارہ میک پر ڈاؤن لوڈ کیے جا سکتے ہیں، مگر اس ٹول کے استعمال میں خطرہ بھی ہے۔
ریموو میک اے آئی ایپل کا سرکاری ٹول نہیں بلکہ ایک آزاد اوپن سورس منصوبہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ کچھ ایسی کنفیگریشن پروفائل پابندیوں پر انحصار کرتا ہے جنہیں ایپل نے ’میک او ایس 26.4‘ میں پرانا قرار دے دیا تھا۔
یہ طریقہ فی الحال ’میک او ایس 27.0.1‘ میں کام کر رہا ہے، لیکن ایپل مستقبل کی کسی بھی سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے اسے غیر مؤثر بنا سکتا ہے۔ اس لیے یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ٹول آئندہ بھی اسی طرح کام کرتا رہے گا۔
ماہرین کے لیے اصل فیصلہ یہی ہے کہ اگر کوئی صارف ایپل انٹیلیجنس استعمال نہیں کرتا اور میک میں اسٹوریج کی کمی کا سامنا ہے تو 12 جی بی تک جگہ خالی کرنا اس کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے بدلے اسے ایپل انٹیلیجنس کی سہولیات چھوڑنا ہی ہوں گی۔
یعنی زیادہ اسٹوریج حاصل کرنے کے لیے صارف کو اے آئی فیچرز کی قربانی دینا ہوگی، جبکہ مستقبل میں ایپل کی جانب سے کسی اپ ڈیٹ کے ذریعے اس طریقے کو بند کیے جانے کا امکان بھی بہرحال موجود ہے۔