
پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں، جن میں صحت اور تعلیم کے اخراجات سمیت مختلف مالی معاملات پر بات چیت ہو رہی ہے۔ وہیں آئی ایم ایف نے پاکستان میں پیٹرول سبسڈی جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے سبسڈی سے فائدہ اٹھانے والے صارفین کی تعداد نہ بڑھانے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں صحت و تعلیم کے اخراجات کا مقررہ ہدف 4.2 ٹریلین روپے سے کم کرکے 3.9 ٹریلین روپے کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال صحت اور تعلیم کے اخراجات مقررہ ہدف سے 370 ارب روپے کم رہے، جبکہ صوبوں کی جانب سے صحت و تعلیم کے لیے مختص رقم بھی ہدف سے تقریباً 500 ارب روپے کم ہے۔ نئے 3.9 ٹریلین روپے کے ہدف کی صورت میں بھی تقریباً 200 ارب روپے کا فرق برقرار رہنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق سندھ اور پنجاب نے صحت و تعلیم کے اخراجات کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں مشکلات سے آئی ایم ایف کو آگاہ کردیا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا نے ہدف پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
مذاکرات میں آئی ایم ایف کی جانب سے صوبوں کی مقررہ ہدف حاصل کرنے کی صلاحیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق پنجاب نے صحت اور تعلیم کے لیے مجموعی طور پر 1.3 ٹریلین روپے، سندھ نے 1.1 ٹریلین روپے جبکہ خیبرپختونخوا نے 800 ارب روپے سے زائد مختص کیے ہیں۔ بلوچستان نے صحت و تعلیم کے لیے 268 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں الیکٹرک گاڑیوں پر دی جانے والی سبسڈی کم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ پیٹرول سبسڈی کے معاملے پر بھی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پیٹرول سبسڈی جاری رکھنے پر رضامند ہے، تاہم اس نے سبسڈی سے فائدہ اٹھانے والے صارفین کی تعداد میں اضافہ نہ کرنے پر زور دیا ہے۔