صومالیہ میں یرغمال دیگر 3 پاکستانی بھی بحفاظت بازیاب کروالیے گئے: اسحاق ڈار


نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خوشخبری سنائی ہے کہ صومالیہ میں یرغمال بنائے گئے جہاز پر سوار باقی 3 پاکستانیوں کو بھی بحفاظت بازیاب کروالیا گیا ہے۔
پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ہائی جیک ہونے والے جہاز ایم ٹی آنر 25 کے پاکستانی عملے کے بقیہ 3 ارکان کو بھی بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستانی عملے کے باقی 3 ارکان عمران علی، محمد یاسین اور سید حسین یوسف کو کامیابی سے بازیاب کرانے کے بعد جبوتی میں پاکستانی سفارت خانے کی ٹیم کے ہمراہ ادیس ابابا پہنچا دیا گیا۔

نائب وزیراعظم نے مزید بتایا کہ تینوں پاکستانی عملے کے ارکان انشا اللہ ایتھوپین ایئرلائنز کی کراچی جانے والی پہلی دستیاب پرواز سے پاکستان روانہ ہوں گے، کراچی کے لیے پرواز 7 اکتوبر کو متوقع ہے۔
پاکستان نے صومالیہ کی حکومت اور یورپی یونین نیول فورس کی آپریشن اٹلانٹا ٹیم کے تعاون پر شکریہ ادا کیا جو ایم ٹی آنر 25 کے قریب موجود تھی۔ حکومتِ صومالیہ اور یورپی یونین نیول فورس آپریشن اٹلانٹا نے عملے کی رہائی یقینی بنانے میں معاونت اور تعاون کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بحری قزاقوں کے خلاف کارروائی اور بین الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی و آزادی کے تحفظ کے لیے دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون مضبوط بنانے کے عزم پر قائم ہے۔
خیال رہے کہ صومالیہ میں بحری قزاقوں کے حملے میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کی میتیں گزشتہ روز کراچی پہنچا دی گئیں، ان کے ساتھ 4 زخمی افراد کو بھی پاکستان لایا گیا ہے جنہیں علاج کیلئے مقامی نجی اسپتال پہنچا دیا گیا۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے صومالیہ میں جاں بحق ہونے والے تینوں پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ 25 لاکھ روپے فی خاندان مالی معاونت کا اعلان کیا تھا۔

وزیراعظم نے جاں بحق کاشف عمر کے بیٹے سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا اور شہدا کے بچوں کے لیے مفت تعلیم، صحت کی سہولیات اور رہائش فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔
وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ متاثرہ خاندانوں سے براہِ راست رابطہ رکھیں۔ حکومتِ پاکستان نے اس بحران کے دوران صومالیہ کی حکومت اور یورپی یونین نیول فورس کے آپریشن اٹلانٹا کا بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا تھا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles