یمن میں حکومتی فورسز کی بڑی پیش قدمی، باب المندب اور ضُباب پر کنٹرول کا دعویٰ

یمن میں کئی برس سے کسی حد تک منجمد جنگ نے حالیہ ہفتوں میں ایک بار پھر شدید رخ اختیار کرلیا ہے۔ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے بڑی فوجی مہم شروع کردی ہے، جب کہ تازہ ترین پیش رفت میں حکومتی فورسز نے باب المندب آبنائے اور تعز کے ساحلی علاقے ضُباب میں ایک ایئرپورٹ پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے زمینی کارروائیوں کو فضائی مدد دینے اور سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ تمام علاقوں کو واپس لینے اور ملک بھر میں ریاستی اختیار بحال کرنے کے لیے بڑی فوجی کارروائی شروع کردی ہے، جس کے بعد تعز، بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں، باب المندب اور دارالحکومت صنعاء کے محاذوں پر لڑائی میں نمایاں شدت آگئی ہے۔

یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ مسلح افواج، سکیورٹی فورسز اور تمام فوجی فارمیشنز کو ایک منظور شدہ منصوبے کے تحت کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے، جس کا مقصد ملک کو حوثیوں کے قبضے سے آزاد کرانا اور ریاستی اختیار بحال کرنا ہے۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق یمنی حکومت کے فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل ماجد عبداللہ النزیلی نے بتایا کہ فوج نے صنعاء کو حوثیوں سے واپس لینے کے لیے ’اسٹریٹجک‘ فوجی کارروائی شروع کردی ہے۔ ان کے مطابق کارروائی میں جدید فوجی صلاحیتیں استعمال کی جارہی ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت میں النزیلی نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی فورسز نے باب المندب آبنائے کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور تعز گورنری کے ساحلی شہر ضُباب میں ایک قریبی ایئرپورٹ بھی دوبارہ قبضے میں لے لیا ہے۔

ان کے مطابق حکومت کی فوج نے ضُباب پر ’فیصلہ کن فوجی کارروائی‘ کے بعد علاقے میں اپنا کنٹرول مضبوط کیا، جب کہ محاصرے کے دوران بعض حوثی جنگجو کشتیوں کے ذریعے فرار ہوگئے۔

یمنی فوج نے اس سے قبل بھی ضلع ضُباب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم حوثیوں نے اس دعوے کی تردید کی۔ فوجی ترجمان کے مطابق ضُباب اور باب المندب کے محاذ پر کارروائی جاری ہے۔

باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے اور بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔

یمنی حکومت کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے کہا ہے کہ باب المندب میں زمین، جزیروں اور تزویراتی مقامات کی بازیابی دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک کے تحفظ اور بین الاقوامی تجارت و جہاز رانی کی سلامتی سے براہِ راست جڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کی بحالی اختتام نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج نے یمنی حکومتی فورسز کی زمینی کارروائیوں کو مسلسل فضائی مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران 300 سے زائد ’اہم اہداف‘ کو نشانہ بنایا جاچکا ہے اور یمنی فوج کو چوبیس گھنٹے فضائی معاونت فراہم کی جارہی ہے۔

ترکی المالکی کے مطابق متحرک اہداف کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں، جبکہ ’آپریشن ڈان آف یمن‘ کے تحت ایک دن کی کارروائی میں 100 سے زائد جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔

یمنی حکومت کی فوج نے بھی اپنی حالیہ کارروائیوں کے بڑے پیمانے پر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق صعدہ، الجوف اور تعز سمیت مختلف علاقوں اور یمن کے مغربی ساحل پر 1122 فوجی کارروائیوں کے دوران 1747 حوثی جنگجوؤں کو ’غیر مؤثر‘ کیا گیا، جب کہ توپ خانے، راکٹوں کے ٹھکانوں، دفاعی تنصیبات، سپلائی لائنز، کمک اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

ترجمان کے مطابق فضائی حملوں، ڈرونز، توپ خانے، میزائلوں اور اسنائپرز کے استعمال کے دوران 364 فوجی اور لاجسٹک گاڑیاں بھی تباہ یا ناکارہ بنائی گئیں۔ تاہم ان ہلاکتوں اور فوجی نقصان کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

تعز میں لڑائی کیوں اہم ہے؟

یمن کے اہم شہر تعز کے اطراف میں بھی لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے۔ ’رائٹرز‘ کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران حوثیوں نے تعز کے قریب اہم پہاڑی مقامات پر حکومتی اور مقامی فورسز کے خلاف پیش قدمی کی اور شہر کو جنوبی ساحل پر واقع عدن سے ملانے والی آخری اہم سڑک کی جانب آگے بڑھے۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق چار سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حوثیوں نے تعز اور عدن کے درمیان ایک اہم سپلائی روٹ بھی کاٹ دیا ہے۔ ’الجزیرہ‘ کے مطابق تعز کے دیہی علاقوں میں حوثیوں کی کارروائیاں گوریلا طرز کی حکمتِ عملی پر مبنی ہیں، جن کا مقصد ساحلی محاذ پر دباؤ کم کرنا اور عدن جانے والی سڑک کی ناکا بندی مضبوط کرنا ہے۔

دوسری جانب شمال مشرقی یمن کے صوبے مأرب میں بھی لڑائی میں شدت دیکھی گئی ہے۔ ایک فوجی ذریعے کے مطابق حکومتی فورسز نے راغوان کے محاذ پر حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا، جب کہ جبل ہلان کے قریب ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور فوجی کمک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی

حالیہ حکومتی کارروائی سے قبل حوثیوں نے بھی بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کی تھی۔ گزشتہ ماہ حوثیوں نے تقریباً 150 کلومیٹر ساحلی پٹی اور باب المندب کے آس پاس کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس کے بعد تعز اور ساحلی محاذ پر طاقت کا توازن مزید بدل گیا۔

یمن کی موجودہ لڑائی ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز کے درمیان ہے۔ حوثی 2014 سے دارالحکومت صنعاء اور شمال مغربی یمن کے بیشتر گنجان آباد علاقوں پر قابض ہیں، جب کہ سعودی عرب نے 2015 میں حکومتی فورسز کی حمایت میں فوجی اتحاد کے ساتھ مداخلت کی تھی۔

اقوام متحدہ کی ثالثی میں 2022 میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد کئی برس تک نسبتاً سکون رہا، تاہم رواں سال جولائی میں جنگ بندی ختم ہونے کے بعد لڑائی نے دوبارہ شدت اختیار کی۔ حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

جنگ کے انسانی اثرات

فوجی کشیدگی نے یمن کے پہلے سے سنگین انسانی بحران کو بھی مزید شدت دی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق حکومت کے زیرِ کنٹرول اور ادارے کے لیے قابلِ رسائی علاقوں میں مناسب خوراک سے محروم گھرانوں کی شرح صرف چند ہفتوں میں بڑھ کر 74 فی صد ہوگئی ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق عدن اور تعز کے اطراف پہنچنے والے بے گھر خاندان کئی بار پانی اور خوراک کے بغیر پہنچ رہے ہیں، جب کہ بہت سے خاندان اپنا سب کچھ پیچھے چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ گندم کے آٹے اور خوردنی تیل جیسی بنیادی اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں، جب کہ یمن اپنی خوراک کی تقریباً 90 فی صد ضروریات درآمد کرتا ہے۔

عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ چند ہفتوں میں تقریباً 109 ملین ڈالر کی مالی معاونت نہ ملی تو اس کے خوراک کے ذخائر اور امدادی سرگرمیوں کے لیے دستیاب وسائل ختم ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں حالیہ لڑائی سے بے گھر ہونے والے ایک لاکھ 52 ہزار افراد اور پہلے سے امداد حاصل کرنے والے 14 لاکھ افراد کو متاثرہ امداد جاری رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام نے باب المندب اور خطے کی دوسری اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں ممکنہ خلل کے عالمی اثرات سے بھی خبردار کیا ہے۔ ادارے کے مطابق بحری راستوں میں رکاوٹ سے خوراک اور ایندھن کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور عالمی سطح پر غذائی عدم تحفظ مزید گہرا ہوسکتا ہے۔

سعودی عرب کا مؤقف

سعودی عرب نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن میں ریاستی اداروں کی بحالی اور جنوبی بحیرۂ احمر و باب المندب میں حوثیوں کی جانب سے بحری جہاز رانی کو لاحق خطرہ ختم ہونے تک یمنی حکومت کی حمایت جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنی خودمختاری کے دفاع اور حوثی حملوں کو روکنے کے لیے فوجی اقدامات کرنے کا حق حاصل ہے۔

ادھر یمنی حکومت کے وزیر خارجہ نے عالمی برادری سے حوثیوں کے خلاف مزید تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کا مستحکم ہونا دنیا کے مفاد میں ہے۔ یمنی حکومت کے مطابق حوثیوں کے خلاف موجودہ فوجی مہم کا مقصد صرف محاذوں پر پیش قدمی نہیں بل کہ ریاستی اختیار کی بحالی اور پورے ملک میں حکومتی رٹ قائم کرنا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles