بلدیاتی انتخابات: الیکشن کمیشن کی پنجاب کو ڈرافٹ شیڈول پر فوری رد عمل دینے کی ہدایت


الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پنجاب، اسلام آباد، کنٹونمنٹس خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے پنجاب حکومت کو ڈرافٹ انتخابی شیڈول پر فوری ردعمل دینے کی ہدایت کردی جب کہ اسلام آباد میں قانون سازی مکمل کرنے اور دیگر صوبوں کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
پیر کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت الیکشن کمیشن میں پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور تیاریوں کے حوالے سے اجلاس ہوا۔ اجلاس میں تمام متعلقہ علاقوں میں حلقہ بندی، انتخابی قوانین، شیڈول اور دیگر انتظامی امور کا جائزہ لیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ڈرافٹ انتخابی شیڈول صوبائی حکومت کو بھجوا دیا ہے اور پنجاب حکومت کو اس پر جلد از جلد ردعمل دینے کی ہدایت کی ہے۔
الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی فہرستیں بھی طلب کرلی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنی تیاری مکمل کرلی ہے۔ کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے ڈرافٹ شیڈول میں 14 دسمبر 2026 کو پولنگ کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ پروگرام کے مطابق امیدوار 27 سے 30 اکتوبر تک کاغذات نامزدگی جمع کراسکیں گے جب کہ کاغذات کی جانچ پڑتال 2 سے 5 نومبر تک ہوگی۔
اعتراضات اور اپیلوں کے لیے 7 سے 11 نومبر کی تاریخیں تجویز کی گئی ہیں جب کہ امیدواروں کی دستبرداری کی آخری تاریخ 18 نومبر ہوگی۔ حتمی امیدواروں کی فہرست 19 نومبر اور انتخابی نشانات 20 نومبر کو جاری کرنے کی تجویز ہے جب کہ نتائج 17 دسمبر تک مرتب کیے جانے کا امکان ہے۔
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کئی برس سے التوا کا شکار ہیں۔ صوبے میں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں ہوئے تھے جب کہ سابق بلدیاتی اداروں کی مدت 2021 میں ختم ہوگئی تھی۔ رواں سال پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 اور پنجاب لوکل گورنمنٹ الیکشن رولز 2026 کی منظوری کے بعد انتخابات کی راہ ہموار ہوئی۔
اگست میں پنجاب حکومت نے الیکشن کمیشن کو 15 دسمبر 2026 سے 15 جنوری 2027 کے دوران بلدیاتی انتخابات کرانے کی تجویز دی تھی، جس پر الیکشن کمیشن نے اصولی اتفاق کیا تھا۔ بعدازاں کمیشن نے 14 دسمبر کی تاریخ پر مشتمل ڈرافٹ شیڈول صوبائی حکومت کو بھجوایا۔
الیکشن کمیشن کے اجلاس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندی کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے تاہم قانون سازی مکمل ہونا ضروری ہے۔
الیکشن کمیشن نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے لیے قانون سازی کا عمل فوری مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق اسلام آباد لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس 2026 کی مدت ختم ہوچکی ہے، اگر نئی قانون سازی نہ ہوئی تو اسلام آباد میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے۔
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ کئی برس سے التوا کا شکار ہے۔ وفاقی دارالحکومت کی سابق بلدیاتی حکومت کی مدت فروری 2021 میں ختم ہوئی تھی۔ رواں سال الیکشن کمیشن نے حلقہ بندی اور دیگر ضروری دستاویزات کی فراہمی کے لیے وفاقی حکومت اور اسلام آباد انتظامیہ کو متعدد ہدایات جاری کیں۔
اگست میں اسلام آباد کی بلدیاتی حلقہ بندی کا عمل شروع کیا گیا تھا، جسے اکتوبر میں مکمل کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی قواعد سے متعلق سفارشات بھی وزارت داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آباد کو بھجوائی تھیں۔
الیکشن کمیشن کے اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندی کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے اور کمیشن انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے کنٹونمنٹس میں انتخابات کرانے کی باضابطہ درخواست تاحال الیکشن کمیشن کو موصول نہیں ہوئی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق یاد دہانیوں اور وزیراعظم کو خط لکھنے کے باوجود اس معاملے پر پیش رفت نہیں ہوسکی۔ کمیشن نے وزارت دفاع کو کنٹونمنٹس میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے حتمی خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ اگر خاطر خواہ جواب موصول نہ ہوا تو کنٹونمنٹس میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔
اس سے قبل الیکشن کمیشن نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی معاملے میں مداخلت کی درخواست کی تھی۔ ملک کے 42 کنٹونمنٹ بورڈز کی مدت 11 اپریل 2026 کو ختم ہوئی تھی جب کہ ان کی حلقہ بندی 20 اپریل کو مکمل کرلی گئی تھی۔
الیکشن کمیشن کو بریفنگ دی گئی کہ خیبرپختونخوا کے 23 اضلاع میں بلدیاتی حلقہ بندی مکمل ہوچکی ہے جب کہ 7 اضلاع میں عمل جاری ہے۔ کمیشن کے مطابق صوبائی حکومت نے ویلج اور نیبرہوڈ کونسلز کی حلقہ بندی کا تھریش ہولڈ تبدیل کردیا ہے۔ پہلے آبادی کی حد 5 ہزار سے 15 ہزار تھی جسے بڑھا کر 30 ہزار سے 40 ہزار کردیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ ترمیم شدہ تھریش ہولڈ ویلج اور نیبرہوڈ کونسلز کی مقررہ تعداد سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لیے موجودہ صورت میں حلقہ بندی ممکن نہیں۔ کمیشن نے خیبرپختونخوا حکومت کو شیڈول 9 میں ویلج اور نیبرہوڈ کونسلز کی تعداد میں مناسب ترمیم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خیبرپختونخوا میں بلدیاتی اداروں کی مدت رواں سال ختم ہوئی تھی۔ جولائی میں الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندی مکمل ہونے کے بعد صوبائی حکومت کے ساتھ انتخابی تاریخ پر مشاورت شروع کی تھی۔ ستمبر کے آخر میں الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا حکومت کو بلدیاتی انتخابات کے لیے مطلوبہ قانونی ترامیم مکمل کرنے کے لیے مزید 3 ہفتوں کی مہلت دی تھی اور صوبائی وزیر بلدیات کو 20 اکتوبر کو طلب کیا تھا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے بلدیاتی اداروں کی مدت 8 فروری 2027 کو ختم ہوگی تاہم عدالتی حکم کے باوجود کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہوسکا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق عدالتی حکم کی روشنی میں کوئٹہ میں حلقہ بندی کا عمل 21 مئی 2026 کو مکمل کیا گیا تھا تاہم کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے بعد صوبائی حکومت نے نئی حد بندی اور دیگر ضروری ڈیٹا الیکشن کمیشن کو فراہم نہیں کیا۔
الیکشن کمیشن نے بلوچستان حکومت کو کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے لیے قانون سازی فوری مکمل کرنے اور عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
اس سے قبل بھی کوئٹہ کے بلدیاتی انتخابات کئی مرتبہ تاخیر کا شکار ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق کوئٹہ میں حلقہ بندی مکمل ہونے کے باوجود انتخابی عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ 2025 میں بلوچستان ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو قانون کے مطابق انتخابی عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔
علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے سندھ میں بروقت بلدیاتی انتخابات کے لیے تیاریاں شروع کرنے اور تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔
سندھ میں مقامی حکومتوں کے نظام سے متعلق قانون میں بھی رواں سال ترامیم زیر بحث رہی ہیں۔ ستمبر میں سندھ کابینہ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم کے پیکیج کا جائزہ لینے کے لیے وزارتی کمیٹی قائم کی تھی جب کہ مجوزہ ترامیم میں بلدیاتی انتخابات کا عمل کونسل کی مدت ختم ہونے سے 120 روز قبل شروع کرنے کی تجویز شامل تھی۔
الیکشن کمیشن نے اجلاس میں تمام صوبائی اور وفاقی حکومتوں پر زور دیا کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے ضروری قانونی، انتظامی اور دیگر اقدامات بروقت مکمل کیے جائیں۔
آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت بلدیاتی اداروں کا قیام اور انتخابات کا انعقاد ضروری ہے جب کہ الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت الیکشن کمیشن کو بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد مقررہ مدت میں انتخابات کرانے کی ذمہ داری حاصل ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles