‘ہم اتنے ترقی یافتہ اور ناروے اتنا پیچھے کیوں ہے’; نارویجین وزیر کی سادگی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث


نارویجین وزیرِ خارجہ کی سرکاری دورے پر پاکستان آمد کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جس میں انہیں کمرشل فلائٹ سے اسلام آباد پہنچنے کے بعد اپنا سامان خود اٹھائے گھومتے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ تصاویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین پروٹوکول کلچر پر تنقید اور اس سادگی کو یورپ کی ترقی کی وجہ قرار دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔
ناروے کے وزیرِ خارجہ ایسپن بارتھ ایڈے جمعرات کو دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر ایڈیشنل فارن سیکرٹری برائے یورپ عائشہ علی نے ان کا استقبال کیا۔
ایسپن بارتھ ایڈے کے دورے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وہ کسی خصوصی طیارے کے بجائے کمرشل فلائٹ پر اسلام آباد پہنچے اور ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد وہ ایئرپورٹ سے اپنا سامان بھی خود اٹھائے ہوئے دکھائی دیے۔

نارویجین وزیرِ خارجہ کی آمد پر نہ کوئی ریڈ کارپٹ تھا اور نہ ہی اہلکاروں کی قطار، سوشل میڈیا صارفین ان کی اس سادگی کا پاکستانی شخصیات سے موازنہ کرتے ہوئے پروٹوکول کلچر پر شدید تنقید کرتے نظر آرہے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس منظر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’جمہوری اور غیر جمہوری ریاستوں کے رہنماؤں کے درمیان فرق واضح ہے۔ یہی ناروے کے خوش حال ترین ممالک میں شامل ہونے کی وجہ بھی ہے۔‘

اس بحث میں کئی صارفین نے یہ نکتہ اٹھایا کہ امیر ملک کا اعلیٰ عہدیدار سادگی سے سفر کرتا ہے جب کہ ترقی پذیر ملک میں پروٹوکول پر زور دیا جاتا ہے۔
صحافی طاہر خان نے لکھا کہ ’لوگوں کی سوچ ٹھیک ہے لیکن میرا خیال ہے کہ پاکستانی حکمران پروٹوکول پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘

سوشل میڈیا پر جاری اس بحث کا مرکز اگرچہ پروٹوکول ہےتاہم ناروے کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا یہ دورہ سفارتی اعتبار سے بھی اہم ہے۔ یہ تقریباً ایک دہائی بعد ناروے کے کسی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔
اسلام آباد پہنچنے کے بعد نارویجین وفد نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی صورت حال اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مذاکرات میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع، موسمیاتی تبدیلی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میری ٹائم امور سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
اس موقع پر ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایڈ نے کہا کہ ناروے میں پاکستانی کمیونٹی کی بڑی تعداد موجود ہے جب کہ پاکستان کی ترقی میں اپنا نارویجین کمپنیاں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
ناروے کے وزیر خارجہ نے ایران-امریکا جنگ میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں کی تعریف کی۔

بعد ازاں ایسپن بارتھ ایڈے کی سربراہی میں ناروے کے اعلیٰ سطح وفد نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات بھی کی۔ ملاقات میں علاقائی سلامتی، باہمی تعلقات، دفاع اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون پر گفتگو ہوئی۔
ناروے کے وفد نے وزیراعظم شہبازشریف سے بھی ملاقات کی، اس موقع پر وزیراعظم نے نارویجین کمپنیوں کو پاکستان میں تیل اور گیس کی تلاش کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

ناروے کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے بعد جہاں دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی سطح پر بڑی پیش رفت ہوئی ہے وہیں سوشل میڈیا پر ان کی سادگی اور وسائل کے محتاط استعمال کو ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔
ایک صارف نے ناروے کے وزیر کی اس سادگی پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم اتنے ترقی یافتہ اور ناروے اتنا پیچھے کیوں رہ گیا ہے، اس کا ثبوت ان تصاویر میں ہے۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ ’ناروے کے وزیرخارجہ سے زیادہ تو پروٹوکول تو ہمارے یہاں اسسٹنٹ کمشنر کا ہوتا ہے۔‘

اسی بحث کے دوران بعض صارفین نے یہ بھی اعتراض اٹھایا کہ ’ایران کا وزیر خارجہ آئے تو اعلیٰ قیادت استقبال کے لیے آتی ہے تاہم پاکستان کو امداد دینے والے ملک ناروے کے وزیرِ خارجہ کے استقبال کے لیے ایک سیکریٹری کو بھیجا گیا۔‘
ایک اور صارف نے انہیں جواب دیا کہ ’بلاول بھٹو 2022 میں بطورِ وزیرِ خارجہ ناروے گئے تھے تو ان کا استقبال بھی ناروے کے فارن آفس کے حکام نے کیا تھا، سفارت کاری اسے ہی کہتے ہیں۔‘

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ناروے کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری دوستانہ اور خوشگوار تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا۔ اس دوران دونوں ممالک باہمی مفاد کے تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش پر بھی غور کریں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles