
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ میر رضا کیس کی منصفانہ تفتیش ہوگی اور تحقیقات کے ہر مرحلے سے فیملی کو آگاہ رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیس حل ہونے کے بعد پولیس اور میڈیکو لیگل کی کوتاہیوں پر کارروائی کروں گا، نئے صوبوں کے حوالے سے واضح کرچکا ہوں آئین کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔
میر رضا کیس کی منصفانہ تفتیش ہوگی اور تحقیقات کے ہر مرحلے سے مقتول کے اہل خانہ کو آگاہ رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ کیس حل ہونے کے بعد پولیس اور میڈیکو لیگل کی کوتاہیوں پر کارروائی کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
منگل کو کراچی آرٹس کونسل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ میر رضا کیس کی تفتیش پولیس کی ذمہ داری ہے اور کیس کی تحقیقات میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ جوڈیشل کمیشن کیس کی تفتیش کے لیے نہیں بنایا جا رہا تھا بلکہ اس کا مقصد پولیس اور میڈیکو لیگل کے نظام میں سامنے آنے والی کوتاہیوں کی نشاندہی کرنا تھا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ میر رضا کے اہل خانہ نے جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کی خواہش ظاہر کی، جس پر حکومت نے ان کی رائے کا احترام کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیس کی تفتیش مکمل ہونے اور معاملہ حل ہونے کے بعد پولیس اور میڈیکو لیگل سے متعلق جو بھی کوتاہیاں سامنے آئیں گی، ان پر کارروائی کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ موجودہ یا مستقبل کی کسی اسمبلی میں نیا صوبہ بنانے کے لیے دو تہائی اکثریت حاصل ہوسکے گی۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ کے عوام ان پر اعتماد کرتے ہیں اور میڈیا کو بھی ان پر اعتماد رکھنا چاہیے۔ انہوں نے پنجاب میں نئے صوبے کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں نئے صوبے کی بات اس لیے کی جاتی ہے کیوں کہ پنجاب اسمبلی نیا صوبہ بنانے کے لیے قراردادیں منظور کرچکی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگر پنجاب کے لوگوں کو سندھ کی اتنی ہی فکر ہے تو وہ آئینی طریقہ کار اختیار کریں، سندھ میں آکر انتخابات لڑیں اور اگر سندھ کے عوام انہیں حمایت دیں تو وہ صوبے کے عوام کی خدمت کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر عوام نے انہیں سپورٹ نہ کیا تو اپنی سیاسی جماعت سے کہیں کہ وفاقی حکومت کے ذریعے سندھ کے عوام کی خدمت کریں۔
مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کا اجلاس نہ بلائے جانے سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 90 روز میں اجلاس بلانا آئینی تقاضا ہے۔
مراد علی شاہ نے صحافیوں سے کہا کہ اب وفاقی حکومت سے سوال کیا جائے کہ سندھ کے مطالبے کے باوجود مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس کیوں نہیں بلایا جارہا۔
لاپتہ بچی پریا کماری کی بازیابی سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ سندھ نے اعتراف کیا کہ اب تک اس معاملے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ ایک دو مرتبہ پریا کماری سے متعلق اطلاعات موصول ہوئیں تاہم ان اطلاعات سے کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوسکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پریا کماری کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
یاد رہے کہ میر رضا علی 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر میں ایک گیسٹ ہاؤس کے پاس سے ملی تھی۔ پولیس نے ابتداء میں اسے خودکشی قرار دینے کی کوشش کی تھی، تاہم عدالت کے حکم پر ہونے والی قبر کشائی اور دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے سچائی اگل دی۔
میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں تصدیق ہوئی کہ مقتول کے جسم پر بدترین تشدد کیا گیا تھا، ان کی پسلیاں، دانت اور کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور گولی بھی پیچھے سے ماری گئی تھی، جس کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی۔
تفتیشی ٹیم اب میر رضا کے موبائل فون کے ریکارڈ کی بھی جانچ کر رہی ہے جس کے مطابق انہوں نے موت سے قبل علی اور اپنے ایک دوست عبداللہ سے بات کی تھی، جبکہ ان کے فون پر آخری آٹھ پیغامات ایسے ملے جن کا کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا۔