
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملک کے سب سے بڑے سیکیورٹی ادارے ’سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل‘ کے نئے سیکرٹری کے طور پر پاسدارانِ انقلاب کے سابق کمانڈر محسن رضائی کا تقرر کر دیا ہے۔
ایرانی صدر کے دفتر کے شعبہ مواصلات اور اطلاعات کے ڈپٹی ہیڈ سید مہدی طباطبائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ محمد باقر ذوالقدر کے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کے عہدے سے استعفا دینے اور ایک نئی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد، صدرِ جمہوریہ ایران ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ایک حکم نامے کے ذریعے محسن رضائی کو اس اہم کونسل کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔
اس سے کچھ ہی دیر قبل ہی ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے محسن رضائی کو 1980 سے 1988 تک ہونے والی ایران عراق جنگ کے دوران ان کے تجربے اور کردار کو بنیاد بناتے ہوئے کونسل میں اپنا نمائندہ نامزد کیا تھا۔
محسن رضائی کا شمار ایران کے سینئر ترین عسکری اور سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے، جنہوں نے 1981 سے 1997 تک پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے کمانڈر کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔
وہ ایران کی تشخیصِ مصلحت کونسل کے رکن بھی ہیں، جو کہ پارلیمنٹ اور گارڈین کونسل کے درمیان اختلافات کو حل کرنے والا ایک اہم ادارہ ہے۔
اس کے علاوہ محسن رضائی کو رواں سال مارچ میں ایران کے سپریم لیڈر کا فوجی مشیر بھی مقرر کیا گیا تھا۔
دوسری جانب، سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے سبکدوش ہونے والے سیکرٹری محمد باقر ذوالقدر کو اپنا سیاسی مشیر مقرر کر دیا ہے۔
سپریم لیڈر نے ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں ذوالقدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے قیمتی تجربات کو مدِنظر رکھتے ہوئے، میں آپ کو اپنا سیاسی مشیر مقرر کرتا ہوں۔
ایران کی اعلیٰ ترین عسکری اور سیاسی قیادت میں یہ اہم تبدیلیاں ایک ایسے نازک وقت پر کی جا رہی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان فروری میں ہونے والے امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد سے فوجی تنازع چل رہا ہے۔
اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان اپریل میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا اور بعد میں جون میں اس فوجی تنازع کو ختم کرنے اور مستقل امن قائم کرنے کے لیے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے تھے، لیکن یہ معاہدہ گزشتہ ماہ اس وقت ناکام ہو گیا جب دونوں ممالک نے تقریباً دو ہفتوں تک ایک دوسرے پر حملے کیے۔
بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی رپورٹس کے سامنے آنے پر اچانک بمباری روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ان بدلتے ہوئے حالات میں محسن رضائی کا اس اہم ترین سیکیورٹی عہدے پر آنا ایرانی سیاست اور سیکیورٹی کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔