
امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ میں آبنائے ہرمز کھلوانے کو اولین ترجیح دے رہے ہیں اور اگر تہران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھول دیتا ہے تو ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ میں ختم کرنے کو تیار ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ میں ’فتح کا اعلان کرنے کی راہ ہموار کر رہے ہیں‘ اور انہوں نے اپنے قریبی معاونین کے ساتھ نجی گفتگو میں یہ خیال بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کے بغیر بھی معاملہ ختم کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اخبار کو بتایا کہ امریکا نے ایران کے خلاف اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کرلیے ہیں اور اب توجہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر مرکوز ہے۔ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کی صورت میں امریکا ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی کوششیں ترک یا معطل کرسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے اعلیٰ مشیروں سے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے ایران کے لیے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنا مشکل ہوگا کیوں کہ گزشتہ جون میں ایران کی 3 اہم جوہری تنصیبات تباہ کردی گئی تھیں۔
امریکی صدر کا مؤقف ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ بحال کرنے یا جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کرے گا تو امریکی انٹیلی جنس اس کا پتہ چلا لے گی۔ صدر ٹرمپ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ امریکی فوجی کارروائی کے خطرے نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش سے باز رکھا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اگر ایران کے جوہری پروگرام میں کوئی نمایاں پیش رفت نظر نہیں آتی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جاتی ہے تو صدر ٹرمپ موجودہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور ایران پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا امکان رکھتے ہیں۔
تاہم امریکی صدر اس سے قبل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے کسی بھی معاہدے میں ایسی ضمانتیں شامل ہونی چاہئیں، جن سے یہ یقینی بنایا جاسکے کہ تہران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرسکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا ٹرمپ انتظامیہ کی موجودہ ترجیحات میں مرکزی حیثیت اختیار کرگیا ہے جب کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاملے پر مستقبل کی بات چیت کا انحصار آبنائے ہرمز کی صورت حال اور ایران کے جوہری پروگرام میں پیش رفت پر ہوسکتا ہے۔