
یمن کی حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے صوبے جیزان میں واقع دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی ’سعودی آرامکو‘ کی ایک تنصیب پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جس کے بعد اب یمن کے مغربی ساحل پر واقع اہم بندرگاہ ’المخا‘ کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
عرب نشریاتی ادارے ’العریبیہ‘ کے مطابق حوثی ملیشیا نے اتوار کو مغربی یمن میں واقع ’المخا‘ بندرگاہ کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یمنی فوجی ذرائع نے بتایا ہے کہ بندرگاہ پر حملے کے ساتھ ہی ’المخا‘ شہر میں کم از کم چار دھماکے ہوئے۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان دھماکوں میں کس نوعیت کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور حملے سے کتنا نقصان ہوا ہے۔
‘المخا‘ بندرگاہ یمن کے مغربی ساحل پر واقع ہونے کی وجہ سے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ بندرگاہ آبنائے باب المندب کے قریب ہے، جو دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔
اس سے قبل حوثی گروپ کے ماتحت کام کرنے والے المسیرہ ٹی وی کے مطابق، باغیوں نے ایک باقاعدہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے آرامکو کی اس تنصیب کو ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے یمن کے صوبوں صعدہ اور حجہ پر کیے گئے ڈرون حملوں کا جواب ہے۔
دوسری جانب، سعودی عرب کی وزارتِ توانائی نے تصدیق کی ہے کہ بحیرہ احمر کے ساحل پر یمن کی سرحد کے قریب واقع جیزان کی آرامکو ریفائنری کی ایک تنصیب میں صبح صادق کے وقت آگ بھڑک اٹھی تھی، جسے فائر فائٹرز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کامیابی سے بجھا دیا ہے۔
سعودی وزارتِ توانائی نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے میں کوئی بھی شخص زخمی نہیں ہوا۔
اگرچہ سعودی وزارتِ توانائی نے اپنے بیان میں آگ لگنے کی اصل وجہ نہیں بتائی، لیکن یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہو۔
اس سے قبل بھی ایران نواز حوثی باغی جیزان میں سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے دعوے کرتے رہے ہیں، جبکہ سعودی حکام ان حملوں کا ذمہ دار عراق میں موجود ایران نواز عسکریت پسندوں کو بھی ٹھہراتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے ایک مشاورتی فرم کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ حوثیوں کے ایک پچھلے حملے کے بعد، جس میں پلانٹ کے گیسی فکیشن کمپلیکس اور ٹینکوں کو نقصان پہنچا تھا، آرامکو نے 27 جولائی کو جیزان میں واقع روزانہ چار لاکھ بیرل تیل صاف کرنے والی اپنی اس اہم ریفائنری کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا۔
ان بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں سفارتی سطح پر بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے. سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس حالیہ بیان کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے جس میں مملکت پر حوثیوں کے میزائل حملوں اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کے اقدامات کی سخت مذمت کی گئی ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان تمام خلاف ورزیوں کے خلاف ایک مضبوط اور دوٹوک موقف اختیار کرے جو خطے کے امن و استحکام، عالمی تجارت اور بحری سفر کے تحفظ کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور یمن میں امن کے قیام کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنے اعلامیے میں یمن کی قانونی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی اجازت کے بغیر تین جولائی کو صنعا ایئرپورٹ اور تیرہ جولائی کو حدیدہ ایئرپورٹ پر طیاروں کی لینڈنگ کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
کونسل نے دنیا کو یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216 کے تحت یمن میں حوثیوں سمیت کسی بھی ایسے فرد یا تنظیم کو ہتھیاروں کی فراہمی، فروخت یا منتقلی پر مکمل پابندی عائد ہے جس پر اقوامِ متحدہ نے پابندیاں لگا رکھی ہیں۔