میر رضا کیس کی تفتیش کے لیے نئی پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم قائم


کراچی میں نوجوان میر رضا علی کی موت کے معاملے میں پولیس نے موجودہ تفتیش پر اہلِ خانہ کے عدم اعتماد کے بعد نئی پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ نئی کمیٹی میں کرائم، سی ٹی ڈی اور انویسٹی گیشن کے سینئر افسران شامل کیے گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی نئی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے، جب کہ ایس ایس پی سی ٹی ڈی عرفان بہادر بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
پولیس حکام کے مطابق ایس پی کورنگی، ایس پی سینٹرل انویسٹی گیشنز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے غضنفر کو بھی تحقیقاتی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ کمیٹی کی تشکیل کا باقاعدہ نوٹیفکیشن کچھ دیر میں جاری کر دیا جائے گا۔
پولیس ذرائع کے مطابق کیس کے تمام پرانے افسران کیس سے باہر کردیے گئے، نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد فیصلہ کیا گیا، نئی ٹیم نئی پوسٹ مارٹم کی روشنی میں تحقیقات کرے گی، کیس کے تمام ڈیجیٹل شواہد کو برقرار رکھا جائے گا۔

نئی تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب میر رضا علی کے اہلِ خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے تبدیل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
میر رضا کی والدہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ پوسٹ مارٹم سے قبل انہوں نے جو کچھ دیکھا تھا، اسی بنیاد پر وہ کہہ رہی تھیں کہ یہ قتل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سامنے آنے والے طبی شواہد نے ان کے مؤقف کو تقویت دی ہے۔
اہلِ خانہ اور وکیل جبران ناصر نے مطالبہ کیا تھا کہ میر رضا کی موت کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تفتیش کے لیے موجودہ تفتیشی ٹیم تبدیل کی جائے۔ انہوں نے کیس کی تحقیقات سے اے آئی جی کراچی کو بھی دور رکھنے اور ان کا کراچی سے باہر تبادلہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
میر رضا کے والد میر حسین نے بھی موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس میں سب ایک جیسے نہیں ہوتے اور اگر آئی جی سندھ یا وزیراعلیٰ سندھ نئی تفتیشی ٹیم بناتے ہیں تو وہ اسے تسلیم کریں گے۔
میر حسین کا کہنا تھا کہ پولیس ان سے خودکشی سے متعلق باتیں کرتی رہی، جب کہ وہ پہلے روز سے یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا اور قاتلوں کو سامنے لایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات میں کیا ہو رہا ہے، اس بارے میں اہلِ خانہ کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا اور موجودہ پولیس ٹیم پر انہیں اعتماد نہیں۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور تفتیشی ٹیم تبدیل نہ کی گئی تو عدالت سے رجوع کریں گے۔
اس سے قبل وکیل جبران ناصر نے بھی دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد موجودہ تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی شواہد سے میر رضا کو گولی لگنے اور جسم پر تشدد کے شواہد سامنے آئے ہیں، جب کہ پولیس تفتیش کرنے کے بجائے اہلِ خانہ کو ہراساں کر رہی ہے۔
دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق میر رضا کے جسم پر کالے دھبے، پاؤں پر زخم، جبڑے کے نیچے گہری چوٹ اور ماتھے پر بھی چوٹ کے نشانات پائے گئے تھے۔
رپورٹ میں میر رضا کی چند پسلیاں ٹوٹنے کا بھی ذکر کیا گیا تھا، جب کہ جسم پر موجود زخموں کو موت سے قبل لگنے والی چوٹوں کے زمرے میں قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کمر پر لگنے والی گولی کے باعث پھیپھڑوں پر بھی خون جمع ہوا تھا۔
جبران ناصر نے بتایا تھا کہ دوسرے پوسٹ مارٹم کے لیے 17 سیمپلز بھیجے گئے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ طبی شواہد نے ان کے اس مؤقف کی تائید کی ہے کہ میر رضا نے خودکشی نہیں کی بل کہ انہیں قتل کیا گیا۔
واضح رہے کہ میر رضا علی کراچی کے علاقے فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے، جس کے بعد 29 جولائی کو ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
لاش ملنے کے بعد ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں موت کی وجہ گولی لگنا بتائی گئی تھی، تاہم میر رضا کے جسم پر تشدد اور جلنے کے نشانات کے باعث اہلِ خانہ نے ابتدائی میڈیکل رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles