
میر رضا کیس میں قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے بعد ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ ابتدائی رپورٹ میں میر رضا کے جسم پر شدید زخموں کی وجہ سے تشدد کے نشانات کی تصدیق ہوئی ہے اور گولی کا پیچھے سے داخل ہو کر سینے سے نکلنا بھی ثابت ہوگیا ہے۔
کراچی میں میر رضا علی کی پُراسرار موت کے کیس میں دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیس کا رخ مکمل تبدیل ہوگیا ہے اور میر رضا کو قتل کیے جانے کے شک کو بھی مزید تقویت مل گئی ہے۔
ہفتے کے روز 8 رکنی میڈیکل بورڈ نے اہلِ خانہ اور وکیل جبران ناصر کی موجودگی میں پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی قبرستان میں میر رضا کی قبر کشائی کی تھی۔ میڈیکل ٹیم صبح 10 بج کر 50 منٹ پر قبرستان پہنچی جب کہ 11 بج کر 50 منٹ پر قبر سے لاش نکالی گئی۔ اس دوران بورڈ نے میر رضا کے جسدِ خاکی کا دوبارہ معائنہ کیا اور کیمیکل تجزیے کے لیے ضروری شواہد اور مختلف نمونے حاصل کیے تھے۔
بورڈ کی جانچ کے بعد سامنے آنے والی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ میر رضا علی کی موت اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے درمیان تقریباً 12 روز کا فاصلہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق کہ ہفتے کے روز معائنے کے وقت لاش گلنا شروع ہو چکی تھی، تاہم دوبارہ طبی معائنے کے دوران جسم پر متعدد اہم چوٹوں اور زخموں کی نشاندہی ہوئی ہے۔
دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق میر رضا کی کھوپڑی کے دائیں حصے میں گہرا زخم موجود تھا جب کہ کھوپڑی کے مختلف حصوں میں فریکچر کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کھوپڑی کے مختلف حصوں میں جما ہوا خون موجود ہونے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ دائیں جانب کولہے کی ہڈی میں بھی 12 سینٹی میٹر کا فریکچر اور اوپری جبڑے کے چار دانت متاثر ہونے کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جانچ کے دوران میر رضا کی دائیں جانب کی چھٹی پسلی ٹوٹی ہوئی پائی گئی جو کہ کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔
8 رکنی بورڈ کی ابتدائی رپورٹ میں گولی لگنے کے زخم سے متعلق بھی اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گولی کے داخلی زخم کا سائز 0.8 سینٹی میٹر تھا جب کہ زخم کے اطراف سیاہ دھبے بھی موجود تھے۔ رپورٹ میں گولی کے خارجی زخم کا بھی ذکر موجود ہے، جس سے گولی کے جسم سے گزرنے کی نشاندہی ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق میڈیکل معائنے کے دوران دل پر دو گول زخم پائے گئے ہیں جب کہ دل کے پچھلے حصے کے پٹھوں پر سیاہ دھبوں کے آثار کا بھی ذکر موجود ہے۔
قبر کشائی کے بعد جاری ابتدائی رپورٹ میں جسم پر پائی جانے والی چوٹوں کو موت سے پہلے لگنے والی چوٹیں قرار دیا گیا ہے جب کہ ان زخموں سے خون کے اخراج کے شواہد بھی موجود ہونے کا ذکر بھی موجود ہے۔
یہ تفصیلات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب میر رضا علی کی موت کے حوالے سے پولیس اور اہلخانہ کے مؤقف میں پہلے ہی واضح اختلاف موجود تھا۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میر رضا علی کی پراسرار موت کے حوالے سے پولیس اور اہل خانہ کے مؤقف میں واضح اختلاف موجود تھا۔
اس 8 رکنی میڈیکل بورڈ کی سربراہی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کر رہی ہیں۔ بورڈ میں ڈاؤ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نسیم احمد بطور پیتھالوجسٹ، ڈاکٹر فرح وسیم بطور فارنزک ایکسپرٹ، سی پی ایل سی آفیسر عامر حسن خان بطور فارنزک آئیڈینٹی فکیشن ایکسپرٹ شامل ہیں، جب کہ ڈاکٹر کامران، ڈاکٹر سری چند اور ڈاکٹر دانیال مرزا کو بھی بطور ممبر شامل کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر سمعیہ سید نے ہی میر رضا علی کے ابتدائی پوسٹ مارٹم پر 14 اعتراضات کرتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ کو لکھے گئے خط میں آگاہ کیا تھا کہ 29 جولائی کو کیے گئے پہلے پوسٹ مارٹم میں متعدد اہم فرانزک تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
ان اعتراضات میں ایکسرے نہ کرانا، گن شاٹ ریزیڈیو ٹیسٹ کے لیے ہاتھوں سے نمونے حاصل نہ کرنا، آتشی ہتھیار سے لگنے والے زخموں کا ناکافی معائنہ اور گولی کے جسم میں داخل ہونے اور گزرنے کی سمت کی مکمل دستاویز بندی نہ ہونا شامل تھا۔
پولیس سرجن نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا تھا کہ مقتول کا چہرہ ناقابل شناخت ہونے کے باوجود ڈی این اے کا نمونہ کیوں حاصل نہیں کیا گیا۔ اس کے علاوہ زخموں کی دستاویز بندی اور فرانزک فوٹوگرافی کے طریقہ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔
اس کیس میں مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب محکمہ صحت سندھ نے ڈاکٹر سمعیہ سید کی سربراہی میں قائم 8 رکنی میڈیکل بورڈ کو تبدیل کرکے 5 رکنی نیا بورڈ تشکیل دے دیا تھا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی کی ساکھ پر سوال نہیں اٹھا رہے تاہم پولیس سرجن نے پوسٹ مارٹم رپورٹ کا مکمل جائزہ لیے بغیر بیان دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کسی کا کیس خراب کرنے کا طریقہ درست نہیں ہے، حکومت کو کوئی سروکار نہیں کہ یہ قتل ہے یا خودکشی، ہم صرف چاہتے ہیں کہ میر رضا کے اہل خانہ کو انصاف ملے۔‘
میر رضا کے اہل خانہ نے نئے بورڈ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد قبر کشائی کا عمل عارضی طور پر مؤخر ہوگیا تھا۔
تاہم قبر کشائی سے قبل انتظامیہ نے 5 رکنی بورڈ کے بجائے سابقہ 8 رکنی میڈیکل بورڈ بحال کردیا اور ڈاکٹر سمعیہ سید کو دوبارہ بورڈ کی کنوینر مقرر کیا گیا۔
میر رضا کے والد میر حسین علی نے رپورٹ جاری ہونے سے قبل میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ وہ موجودہ میڈیکل بورڈ کے قیام کے بعد ہونے والی تفتیش سے مطمئن ہیں۔ وہ پہلے بھی بارہا یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ میر رضا کو قتل کیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے جاری بیانات میں اس کیس کو مالی لین دین سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ ایڈیشنل آئی کراچی آزاد خان نے اس کیس سے متعلق مؤقف اختیار کیا تھا کہ تفتیشی افسران کو تقریباً 90 فیصد یقین ہے کہ میر رضا کی موت خودکشی کا نتیجہ ہے۔
اس کیس میں میر رضا کے والد میر حسین علی نے تفتیشی عمل اور میڈیکل کے حوالے سے سامنے آنے والے تضادات پر اعتراضات اٹھائے تھے۔ میر رضا کے والد میر حسین نے پولیس کے اس مؤقف پر اعتراض کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس قتل کے پہلو کی تحقیقات کے بجائے معاملے کو مالی معاملات اور لین دین کی طرف موڑ رہی ہے۔
قبر کشائی اور دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد رپورٹ میں سامنے آنے والی شدید چوٹوں اور گولی کے رخ کے تعین کے بعد اب اس کیس کا رخ مکمل طور پر تبدیل ہوگیا ہے۔
کراچی میں میر رضا علی کے اہلِ خانہ اور وکیل جبران ناصر نے دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ طبی شواہد نے ان کے اس مؤقف کی تائید کی ہے کہ میر رضا نے خودکشی نہیں کی بلکہ انہیں قتل کیا گیا ہے۔
میر رضا کی والدہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے پوسٹ مارٹم سے پہلے جو کچھ دیکھا تھا، اسی بنیاد پر کہا تھا کہ یہ قتل ہے۔ میر رضا کے والد کا کہنا تھا کہ وہ 30 تاریخ سے یہی کہہ رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کا قتل ہوا ہے، تاہم پولیس ان کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔
جبران ناصر کا کہنا تھا کہ انہیں موجودہ تفتیش پر اعتماد نہیں ہے اور وہ پوری تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف انکوائری کے لیے درخواست دی گئی تھی اور متعلقہ ڈاکٹر کو معطل بھی کر دیا گیا ہے۔
جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ پولیس تفتیش کرنے کے بجائے میر رضا کے اہل خانہ کو ہراساں کر رہی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ میر رضا کی موت کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تفتیش کے لیے موجودہ تفتیشی ٹیم کو تبدیل کیا جائے۔
واضح رہے کہ میر رضا علی کراچی کے علاقے فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے، جس کے بعد 29 جولائی کو ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔
میر رضا کی لاش ملنے کے بعد ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں موت کی وجہ گولی لگنا بتائی گئی تھی، تاہم میر رضا کے جسم پر تشدد اور جلنے کے نشانات کے باعث اہل خانہ نے ابتدائی میڈیکل رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔