
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی نہیں ہے۔ ان کے مطابق بات چیت فی الحال عارضی بحری راستے قائم کرنے تک محدود ہے جب کہ آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی امریکا کی جانب سے ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی خلاف ورزیوں کے ازالے سے مشروط ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی مہر نیوز کے مطابق عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت کو آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔
ہفتے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ عمان مذاکرات کا مقصد فی الحال عارضی بحری راستے قائم کرنا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے محدود آمدورفت ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی پیچیدگیوں کے باوجود ان عارضی راستوں کے تعین کا عمل جاری ہے، جو اب آخری مراحل میں ہے۔
ان کے مطابق ایرانی مسلح افواج کی جانب سے فراہم کیے گئے نقشوں کی بنیاد پر ان عارضی راستوں کا تعین کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے جلد نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ ان اقدامات کو آبنائے ہرمز کی عمومی یا مکمل بحالی نہیں کہا جا سکتا ہے۔
عباس عراقچی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے دیگر شرائط بھی پوری ہونا ضروری ہیں، جن میں خاص طور پر امریکا کی جانب سے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کا ازالہ شامل ہے۔
انہوں نے اسلام آباد میمورنڈم کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی افواج بارہا انتباہ کے باوجود متبادل بحری راستے زبردستی کھولنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نہ تو معاہدے کی خلاف ورزی برداشت کرے گا اور نہ ہی کسی فریق کو آبنائے ہرمز پر اس کے اختیار اور کنٹرول کو چیلنج کرنے کی اجازت دے گا۔
اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بھی اسی طرز کا ایک بیان جاری کیا گیا تھا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ ہے اور اس کے لیے ایران کے پاس اپنا قانونی اور دفاعی طریقہ کار موجود ہے۔
ہفتے کے روز ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل حسین محبی نے آبنائے ہرمز کی موجودہ صورت حال اور اسے دوبارہ کھولنے کے لیے درکار شرائط پر گفتگو کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ترین بحری گزرگاہ کو کھولنے کا فیصلہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل سے الگ ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو محض ایک بحری گزرگاہ یا آبی راستہ نہیں بلکہ ایران کے اہم جغرافیائی اثاثے اور طاقت کے طور پر دیکھتا ہے، جسے ایران کی دفاعی اور خودمختاری سے متعلق پالیسیوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔
جنرل حسین محبی کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مکمل طور پر ان شرائط سے مشروط ہے جو ایران نے باضابطہ طور پر طے کرکے امریکا تک پہنچائی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کس طریقے سے اور کب دوبارہ کھولا جائے گا، اس کا براہِ راست انحصار اس بات پر ہوگا کہ امریکا ایران کی ان شرائط کو کس حد تک تسلیم کرتا ہے۔
جنرل حسین محبی نے کہا کہ خطے میں نقل و حمل کے راستوں کی دوبارہ بحالی کے لیے ’دشمن‘ کو ایران کی قانونی اور منطقی شرائط مکمل طور پر تسلیم کرنا ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کو ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات سمیت دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی مکمل طور پر مداخلت سے گریز کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات اپنے آخری مراحل میں ہیں۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ جب امریکا ایران کی شرائط تسلیم کرلے گا تو یقینی طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ضروری حالات پیدا ہو جائیں گے۔