
بنگلہ دیش حکومت نے سابق اسٹار کرکٹر شکیب الحسن کی کرکٹ ٹیم میں واپسی کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ساتھ ایک میڈیا پروگرام میں شرکت کے بعد ان کے لیے دوبارہ ملک کی نمائندگی کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق شکیب الحسن نے بدھ کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ٹیلی فون کے ذریعے ایک میڈیا پروگرام میں شرکت کی تھی، جہاں معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے صحافیوں سے گفتگو کی تھی۔ شیخ حسینہ کو دو سال قبل طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے خلاف خونریز کارروائی کے بعد اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔
بنگلہ دیش کے وزیر برائے کھیل امین الحق نے کہا کہ حکومت اس سے پہلے شکیب الحسن کے معاملے میں نسبتاً نرم رویہ اختیار کیے ہوئے تھی، تاہم حالیہ پیش رفت کے بعد یہ رویہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
امین الحق نے ایک بیان میں کہا کہ ہم اس معاملے کو کافی لچک اور برداشت کے ساتھ دیکھ رہے تھے، لیکن اس کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ اب اس طرح سوچنے کی کوئی گنجائش باقی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس شخص نے آمر کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر شرکت کی ہو، اب اس کے واپس آنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔
39 سالہ شکیب الحسن بنگلہ دیش کے کامیاب ترین کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ ملک کی معروف کھیلوں کی شخصیات میں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی جانب سے 400 سے زیادہ بین الاقوامی میچز کھیلے اور پانچ عالمی کپ میں ملک کی نمائندگی کی۔
شکیب الحسن سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکمران جماعت عوامی لیگ سے وابستہ رہے ہیں اور سیاست میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔ وہ ان متعدد افراد میں شامل ہیں جن کے خلاف حسینہ حکومت کے خاتمے کے دوران مظاہرین کے خلاف ہونے والی پولیس کارروائی سے متعلق قتل کی تحقیقات جاری ہیں۔
شیخ حسینہ کی سابق حکومت پر انسانی حقوق کی تنظیمیں سیاسی مخالفین کے قتل، اپوزیشن جماعتوں کو دبانے، عدالتی نظام کے غلط استعمال اور یک طرفہ انتخابات سمیت مختلف الزامات عائد کرتی رہی ہیں۔
نومبر 2025 میں ڈھاکا کی ایک عدالت نے شیخ حسینہ کو ان کی غیر موجودگی میں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ وہ اس وقت بھارت میں روپوش ہیں۔
شکیب الحسن نے ستمبر 2024 میں بھارت کے خلاف اپنی ٹیم کے دوسرے ٹیسٹ کے بعد ریٹائرمنٹ کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایک مکمل سیریز کھیلنے کے بعد کرکٹ کو خیرباد کہنا چاہتے ہیں۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے رواں سال جنوری میں کہا تھا کہ شکیب دوبارہ کرکٹ کھیل سکتے ہیں، لیکن بدھ کو بھارت میں ہونے والے میڈیا پروگرام میں ان کی شرکت کے بعد ملک میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
شکیب نے یہ بھی بتایا کہ اس صورتحال کے نتیجے میں ان کے گھر پر پیٹرول بم سے حملہ کیا گیا۔ اس واقعے نے ان کی سکیورٹی اور بنگلہ دیش واپسی کے حوالے سے بھی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
تاہم جمعرات کو شکیب الحسن نے کہا کہ وہ قتل سمیت دیگر الزامات کا سامنا کرنے کے لیے محفوظ حالات میں سری لنکا سے بنگلہ دیش واپس آنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ وہ ایک مرتبہ پھر اپنے ملک کی نمائندگی کر سکیں گے اور 2027 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی ٹیم کا حصہ بنیں گے۔
شکیب نے 2023 کے عالمی کپ میں بنگلہ دیش کی قیادت کی تھی۔ اب ان کی خواہش ہے کہ وہ 2027 کے عالمی کپ میں بھی ملک کے لیے کھیلیں، تاہم بنگلہ دیش حکومت کے حالیہ بیان کے بعد ان کی قومی ٹیم میں واپسی کے امکانات غیر یقینی نظر آتے ہیں۔