
امریکی حکام کی جانب سے جاری کی گئی نئی غیر اعلانیہ دستاویزات میں مشرق وسطیٰ کے ایک رہائشی علاقے کے اوپر تیزی سے حرکت کرتی ہوئی پراسرار گول شے کی مختصر ویڈیو بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والی اس شے کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی اور کیس کو غیر حل شدہ قرار دیا گیا ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے (ان آئیڈینٹیفائڈ اینومولس فینومینا) یعنی پُراسرار گولے سے متعلق ریکارڈ کے نئے مجموعے میں یہ ویڈیو سامنے آئی ہے۔ ویڈیو میں ایک گنجان آباد علاقے کے اوپر ایک گول یا کرہ نما شے کو تیزی سے حرکت کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
کیس کی تفصیلات کے مطابق ماہرین نے دستیاب معلومات اور ویڈیو کا جائزہ لیا، تاہم وہ اس بات کا تعین نہیں کرسکے کہ یہ شے ڈرون، غبارہ، طیارہ یا کسی اور معلوم فضائی ذریعے سے تعلق رکھتی تھی۔
حکام کے مطابق اس شے میں بعض غیر معمولی خصوصیات دیکھی گئیں، جن کی دستیاب معلومات کی بنیاد پر مکمل وضاحت نہیں کی جاسکی۔ اسی وجہ سے اس واقعے کو غیر حل شدہ کیسز کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔
تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی واقعے کو غیر حل شدہ قرار دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے خلائی مخلوق یا کسی غیر زمینی سرگرمی کا ثبوت سمجھا جائے۔ حکام کے مطابق غیر حل شدہ کا مطلب غیر زمینی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ واقعے کی حتمی شناخت کے لیے ضروری معلومات دستیاب نہیں تھیں۔
یہ پراسرار گول شے ان درجنوں نئے واقعات میں شامل ہے جن کی تفصیلات حال ہی میں عوام کے سامنے لائی گئی ہیں۔ ان میں بعض ایسے واقعات بھی شامل ہیں جن میں فوجی سینسرز اور نگرانی کے دوران آسمان پر گول یا غیر معمولی اشیا کی موجودگی ریکارڈ کی گئی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان آئیڈینٹیفائڈ اینومولس فینومینا سے متعلق مزید ریکارڈ بھی عوام کے لیے جاری کیے جاسکتے ہیں اور ان دستاویزات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے۔ امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں مزید فائلیں سامنے آئیں گی۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران یو ایف اوز اور نامعلوم فضائی اشیا کے بارے میں دنیا بھر میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف حکومتوں سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایسے واقعات سے متعلق معلومات زیادہ شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائی جائیں۔