
عالمی فٹ بال اس وقت ایک نئے تنازع کا شکار ہو چکی ہے، جہاں یورپی فٹ بال کی تنظیم یو ای ایف اے اور اس کے 55 رکن ممالک نے فیفا کے تمام ٹورنامنٹس کے بائیکاٹ کی دھمکی دے دی ہے۔ یہ ردعمل فیفا کے اس متنازع منصوبے کے خلاف سامنے آیا ہے، جس کے تحت ورلڈ کپ سمیت اس کے بڑے مقابلوں میں نجی سرمایہ کاری لانے کی تجویز دی گئی ہے۔
رائٹرز کے مطابق یو ای ایف اے کے 55 رکن ممالک نے ہنگامی اجلاس میں متفقہ طور پر اس تجویز کی مخالفت کی۔ یو ای ایف اے نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر فیفا نے اس منصوبے کو مکمل طور پر واپس نہ لیا اور یہ یقین دہانی نہ کرائی کہ مستقبل میں بھی اس کے مقابلوں یا انتظامی نظام میں نجی ملکیت کی اجازت نہیں دی جائے گی تو کوئی بھی یورپی قومی ٹیم فیفا کے کسی ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے گی۔
یو ای ایف اے کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ فروخت کے لیے نہیں ہے اور نہ ہی اسے سرمایہ کاری کی مصنوعات کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ تنظیم کے مطابق اگر نجی سرمایہ کار فیفا کے مقابلوں میں ملکیتی حصہ حاصل کر لیتے ہیں تو فٹ بال کی نوعیت ہمیشہ کے لیے بدل جائے گی اور تجارتی مفادات کھیل پر حاوی ہو جائیں گے۔
فیفا کے صدر جیانی انفینٹینو کے مجوزہ منصوبے کے تحت تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کا ایک ذیلی ادارہ قائم کیا جائے گا، جو ورلڈ کپ اور دیگر فیفا مقابلوں کے تجارتی امور سنبھالے گا۔ اس منصوبے کے تحت نجی سرمایہ کاروں کو کمپنی میں اقلیتی شیئرز کی پیشکش کی جائے گی۔
فیفا نے اپنی 211 رکن فٹ بال ایسوسی ایشنز کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ 19 ستمبر تک اس منصوبے کی منظوری دے دیتی ہیں تو ہر رکن کو 4 کروڑ ڈالر دیے جائیں گے، جو یکم جنوری 2027 سے دستیاب 10 ارب ڈالر کے پیکج کا حصہ ہوں گے۔ تاہم اگر یہ تجویز مسترد ہو جاتی ہے تو مجموعی فنڈنگ 2.7 ارب ڈالر تک محدود رہے گی، جس کے تحت ہر رکن کو تقریباً ایک کروڑ ڈالر ملیں گے۔
فیفا کے منصوبے پر صرف یورپ ہی نہیں بلکہ دیگر خطوں میں بھی تحفظات سامنے آئے ہیں۔ شمالی، وسطی امریکا اور کیریبین کی فٹ بال تنظیم کونکاکاف نے بھی اپنے 41 رکن ممالک کے ساتھ اجلاس کے بعد اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ تاہم بعد ازاں میکسیکو فٹ بال فیڈریشن نے کہا کہ وہ حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے فیفا کی جانب سے ہونے والی گول میز کانفرنسوں اور مزید معلومات کا انتظار کرے گی۔
ایشین فٹ بال کنفیڈریشن نے بھی اپنے 47 رکن ممالک کو سخت لہجے میں خط ارسال کرتے ہوئے کہا کہ فیفا نے اس منصوبے پر کسی مرحلے پر ایشیائی تنظیم سے مشاورت نہیں کی، جو ناقابل قبول ہے۔ اے ایف سی کے صدر شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ نے کہا کہ تمام علاقائی تنظیموں کی حمایت کے بغیر یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا، جبکہ فیفا کے یکطرفہ اقدامات براعظمی فٹ بال کی بنیادوں، شفافیت اور باہمی تعاون کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
افریقی فٹ بال کنفیڈریشن کی ایگزیکٹو کمیٹی آئندہ ہفتے اس منصوبے کا جائزہ لے گی، جبکہ اوشیانا فٹ بال کنفیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے ماہ اپنے اجلاس میں اس معاملے پر غور کرے گی۔ دوسری جانب جنوبی امریکی فٹ بال تنظیم کونمیبول نے تاحال اس حوالے سے کوئی عوامی مؤقف جاری نہیں کیا۔
عالمی کھلاڑیوں کی تنظیم ففپرو نے بھی فیفا کے منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر نجی سرمایہ کاری کا یہ ماڈل نافذ ہوا تو عالمی مقابلوں کا ڈھانچہ اور کھلاڑیوں کے پیشہ ورانہ مستقبل پر اس کے مستقل اثرات مرتب ہوں گے۔
یو ای ایف اے کے سخت مؤقف سے 2027 میں برازیل میں ہونے والے خواتین کے ورلڈ کپ پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں، جبکہ 2030 کے مردوں کے ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی اسپین، پرتگال اور مراکش کے پاس ہے۔ یورپ کی چھ ٹیمیں مردوں اور خواتین دونوں کی عالمی درجہ بندی میں ٹاپ 10 میں شامل ہیں، جن میں موجودہ عالمی چیمپئن اسپین بھی شامل ہے۔
برطانوی وزیرِ ثقافت لیزا نینڈی نے بھی یو ای ایف اے کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فٹ بال ارب پتی سرمایہ کاروں کا نہیں بلکہ شائقین کا کھیل ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس کھیل کے تحفظ کے لیے مؤثر مؤقف اختیار کیا جائے۔