یورپ میں ہیٹ ویو کے اثرات، دریا میں ڈوبے نازی دور کے جنگی جہاز منظر عام پر آگئے

یورپ میں جاری شدید گرمی اور بارشوں کی کمی نے دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک کم کر دی ہے، جس کے باعث دوسری جنگِ عظیم کے دوران ڈبوئے گئے درجنوں نازی جرمن جنگی جہاز دوبارہ نظر آنے لگے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منظر نہ صرف تاریخ کی ایک جھلک پیش کرتا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کی بھی واضح نشاندہی کرتا ہے۔

یورپ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی شدید گرمی کی لہر اور طویل خشک سالی کے باعث دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک گر گئی ہے، جس کے نتیجے میں کئی دہائیوں سے دریا کی تہہ میں موجود دوسری جنگِ عظیم کے نازی دور کے جنگی جہاز دوبارہ منظر عام پر آ گئے ہیں۔

یہ جنگی جہاز سربیا کے شہر پراہوو کے قریب دیکھے گئے ہیں، جہاں 1944 میں پسپا ہونے والی نازی جرمن افواج نے انہیں جان بوجھ کر ڈبو دیا تھا تاکہ وہ پیش قدمی کرنے والی سوویت فوج کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔

پانی کم ہونے کے بعد ان جہازوں کے کمانڈ برج، توپوں کے برج، زنگ آلود مستول، مڑے ہوئے ڈھانچے اور دیگر حصے پانی سے باہر نمایاں ہو گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بعض جہازوں میں اب بھی غیر پھٹا ہوا گولہ بارود موجود ہو سکتا ہے، جس کے باعث جب بھی پانی کی سطح مزید کم ہوتی ہے تو دریائی آمدورفت کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

دریائے ڈینیوب کے دیگر حصوں، جن میں ہنگری اور کروشیا شامل ہیں، وہاں بھی کئی پرانے بحری جہازوں کے ملبے دوبارہ دکھائی دینے لگے ہیں۔

تقریباً 2 ہزار 850 کلومیٹر طویل دریائے ڈینیوب 10 یورپی ممالک سے گزرتا ہوا بحیرہ اسود میں جا گرتا ہے، تاہم کئی ہفتوں سے جاری شدید گرمی اور نہ ہونے کے برابر بارش کے باعث اس میں پانی کی سطح ریکارڈ حد تک گر چکی ہے۔

ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں حال ہی میں دریائے ڈینیوب میں پانی کی سطح صرف 23 سینٹی میٹر ریکارڈ کی گئی، جو 2018 کے سابقہ ریکارڈ سے بھی کم ہے۔

پانی کی سطح گرنے سے مال بردار بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے، کئی کشتیاں پھنس گئی ہیں، دریائی سیاحت کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بعض بجلی گھروں کو بھی پانی کی کمی کے باعث آپریشنل مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب یورپ حالیہ برسوں کے بدترین جنگلاتی آتشزدگی کے موسم سے بھی گزر رہا ہے۔ اسپین، پرتگال، فرانس، یونان اور بلقان کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی ہے، جہاں شدید گرمی، خشک موسم اور تیز ہواؤں نے آگ پر قابو پانا مشکل بنا دیا ہے۔

کئی علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا، جبکہ بنیادی ڈھانچے، جنگلات اور زرعی اراضی کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے باعث یورپ میں شدید گرمی، خشک سالی اور جنگلاتی آگ جیسے واقعات کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق پانی سے ابھرنے والے یہ جنگی جہاز اگرچہ دوسری جنگِ عظیم کی تاریخ کا ایک نادر منظر پیش کرتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ اس مستقبل کی بھی جھلک دکھاتے ہیں جہاں موسمیاتی شدتیں معمول کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles