
روس نے بحیرۂ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر یوکرین کے ڈرون حملے کو ایران پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایک خودمختار ملک ہے اور اپنے حقوق کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ روسی صدارتی محل (کریملن) کے مطابق یہ حملہ تنازع کو خطے میں پھیلانے کا باعث بن سکتا ہے اور اس خطرے کا مکمل خاتمہ بے حد ضروری ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے یوکرین کی کارروائی کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیف حکومت مسلسل مختلف ممالک کو نشانہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس سے قبل یوکرین نے جرمنی کی اہم توانائی تنصیب ’نارڈ اسٹریم گیس پائپ لائن‘ کو دھماکے سے تباہ کیا تھا اور اب اس نے ایران کے ایک تجارتی جہاز پر حملہ کیا ہے۔
کریملن کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ یوکرین نے ’کیسپین پائپ لائن کنسورشیم‘ کی تنصیبات اور ٹرمینلز کو بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا تھا حالانکہ اس آئل پائپ لائن منصوبے میں قازقستان بھی شامل ہے۔
بعد ازاں ایک اور بیان میں دمتری پیسکوف نے خبردار کیا کہ ایرانی جہاز پر یوکرین کا حملہ اس تنازع کے جغرافیائی دائرۂ کار کو مزید پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی جانب سے دہشت گردی کے ان خطرات کو روکنا بے حد ضروری ہے۔
یہ واقعہ ہفتے کے روز اس وقت پیش آیا تھا جب امریکا اور ایران نے گزشتہ چند روز سے جاری حملے روک دیے تھے۔ ایران نے کیسپین سی‘ میں اپنے ایک تجارتی جہاز پر حملے میں یوکرین کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا جس کی خود یوکرینی صدر نے بھی تصدیق کی تھی۔ ایرانی تجارتی جہاز پر یوکرینی ڈرون حملے میں ایک ملاح ہلاک جب کہ ایک زخمی ہوا تھا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے یوکرین کے اس حملے کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی اور جارحیت قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اس حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ منگل کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو امریکا میں موجود ہیں اور دونوں رہنماؤں کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں الگ الگ ملاقاتیں شیڈول ہیں۔
نیتن یاہو اور زیلنسکی واشنگٹن میں امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کریں گے۔ لنزے گراہم ریپبلکن پارٹی کے بااثر رہنما اور صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی تھے، جو اسرائیل اور روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین کے بڑے حامی سمجھے جاتے تھے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی صدر ٹرمپ سے ملاقات میں میڈیا کو رسائی نہیں دی جائے گی۔ یوکرینی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس ملاقات میں ’پیٹریاٹ میزائل سسٹم‘ اہم ترین موضوع ہوگا۔
گزشتہ ہفتے ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے روس کے ساتھ ممکنہ امن مذاکرات پر بھی گفتگو کی تھی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ اور صدر زیلنسکی یوکرین اور روس کے درمیان جنگ روکنے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد یوکرینی صدر کی امریکی کانگریس کے سینیٹرز سے بھی ملاقات متوقع ہے۔
رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگون‘ کی جانب سے کانگریس کو بھیجے گئے ایک خط میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ یوکرین کے لیے منظور شدہ 40 کروڑ ڈالر کی امداد مالی سال 2029 تک مکمل طور پر خرچ نہیں کرے گی، حالانکہ روسی میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو اس وقت ہتھیاروں کی شدید ضرورت ہے۔
ڈیموکریٹک ارکان اور ریپبلکن پارٹی کے بعض اراکین نے اس معاملے پر بھی پینٹاگون کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ کانگریس کی منظور شدہ امداد روکنا یوکرین کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔